افغانستان سے فوج کا انخلا بہت تیزی سے کیا گیا: امریکی وزیر دفاع

جنرل میٹس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انحلا بہت تیزی سے کیا گیا تھا۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو برسلز میں نیٹو کے مستقبل کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پر یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد بڑھائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع کا بیان نیٹو کے سیکریٹری جنرل کے بیان سے بالکل متصادم ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ افغانستان سے فوجوں کا انخلا بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

کابل میں نیٹو کے قافلے پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک

’داعش، ازبک اور پاکستانی طالبان کا غیر رسمی اتحاد‘

افغانستان: قندوز میں طالبان کو 'شکست'

سنہ 2011 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تھی تاہم بعد میں یہ تعداد کم ہوتی رہی اور سنہ 2014 میں ملک کا کنٹرول افغان فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ اس وقت افغانستان میں نیٹو کے فوجی اہلکاروں کی تعداد ساڑھے 13 ہزار ہے۔

نیٹو ممالک کے دفاعی حکام سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ دفاع نے پریس کانفرنس کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس پر پھر نظر ڈالیں۔ اس پر بہت اتفاق رائے ہے کہ شاید ہم نے فوج کا انحلا بہت جلدی میں کیا ہے، تعداد کو بہت تیزی سے کم کر دیا ہے۔'

تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں نیٹو کے جنگی کردار کا خاتمہ درست فیصلہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ' اگر کچھ تھا تو ہمیں یہ اس سے بھی پہلے کرنا چاہیے تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی سفیروں اور امریکی ذرائع نے تجویز دی افغانستان میں حالیہ حملوں اور دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے وہاں امریکی اہلکاروں کی تعداد میں 3000 سے 5000 تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جنرل میٹس کا کہنا تھا کہ 'میں جنگ کی ٹائم لائن کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لب لباب یہ ہے کہ نیٹو نے افغانستان کو خوف اور دہشت گردی سے آزادی دلانے کا عزم کر رکھا ہے، اور دہشت گردی سے آزادی کا یہ تقاضہ ہے کہ آپ صورتحال کو ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔'

یاد رہے کہ افغانستان میں شورش کا آغاز 16 سال قبل امریکہ میں دہشت گرد حملوں کے بعد شروع ہوا۔

سنہ 2014 کے آخر میں نیٹو نے وہاں کی فوج کی تربیت میں مدد شروع کی۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل سٹولٹنبرگ نے مزید کہا کہ افغانستان میں مزید نیٹو اہلکار بھجوائے جائیں گے تاہم وہ لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے'۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ دفاع نے کہا کہ افغانستان میں پہلے سے موجود 500 اہلکاروں کے بعد اب مزید 100 اہلکاروں کو بھجوایا جائے گا۔

یاد رہے کہ حلایہ مہینوں میں افعانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ حالیہ عرصے میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں