’چینی سڑک کی تعمیر سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ‘

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا نے چین کی جانب سے سرحد پر نئی سڑک کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی کے لیے 'سنگین خطرہ' ہے۔

یہ سڑک ایک ایسے مقام پر تعمیر کی جا رہی ہے جہاں چین، انڈیا اور بھوٹان کی سرحدیں ملتی ہیں۔

سرحد پر کشیدگی، چین نے 300 انڈین یاتریوں کو روک دیا

انڈین فوج چینی علاقے سے فوراً نکل جائے: چین

چین نے دریائے برہم پتر کے ایک معاون دریا کا پانی روک دیا، انڈیا اور بنگلہ دیش پریشان

اس معاملے پر چین اور انڈیا کے درمیان حالیہ دنوں میں سفارتی سطح پر تندوتیز بیانات سامنے آ چکے ہیں

چین نے رواں ہفتے انڈیا پر الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ سڑک کی تعمیر میں خلل ڈالنے کے لیے انڈین سرحدی محافظوں نے سکم سے تبت میں اس کے زیرِ انتظام علاقے میں دراندازی کی ہے۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوان میں بغیر مطلع کیے اپنے طور پر سڑک کی تعمیر کے لیے اس علاقے میں داخل ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انڈیا چین کے حالیہ اقدامات پر شدید تشویش رکھتا ہے اور چینی حکام کو مطلع کر چکا ہے کہ ایسی کسی تعمیر سے حالات کو جوں کا توں رکھنے کا عمل متاثر ہو گا اور اس سٹرک کی تعمیر سے ملکی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔'

انڈین وزارتِ خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں امن کا خیر مقدم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

چین رواں ہفتے کے دوران متعدد بار کہہ چکا ہے کہ انڈیا سرحد سے اپنی فوج ہٹائے کیونکہ وہ اس کے علاقے میں دراندازی کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔

چین کا موقف ہے کہ اسے برطانیہ کے ساتھ سکم اور تبت سے متعلق سنہ 1890 میں کیے جانے والے ایک معاہدے کے مطابق علاقے میں سٹرک تعمیر کرنے کا پورا حق ہے۔

جمعرات کو بھوٹان نے بھی چین سے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا اس سٹرک کی تعمیر دو طرفہ معاہدے کی خلاف وزری ہے۔

تاہم جمعے کو چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان لو کینگ نے ایک بیان میں کہا ہے 'چین کے بھوٹان سے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں لیکن یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم ثابت قدمی سے اپنی علاقائی سالمیت اور حاکمیت کو برقرار رکھیں۔'

خیال رہے کہ چین نے حال ہی میں چین نے انڈیا کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بودھ یاتریوں کو اپنے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔

چین اور انڈیا کا سرحدی علاقہ نتھو درہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے ہندو اور بدھ مت یاتری تبت میں یاترا کے لیے جاتے ہیں۔

انڈیا اور چین کے مابین 1967 میں اسی علاقے میں جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں