پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے لیے 15 ماہ تک تیاری کی: منوہر پاریکر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس بیان کے حوالے سے بعض حلقوں نے سابق وزیرِ دفاع کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انڈین میڈیا میں چھپنے والی تفصیلات کے مطابق ملک کے سابق وزیرِ دفاع منوہر پاریکر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ کنٹرول کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے لیے پندرہ ماہ تک تیاری کی گئی اور جب ایک صحافی نے اس حوالے سے ہتک آمیز سوال کیا تو انھوں نے وقت آنے پر اس کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔

اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سابق وزیرِدفاع کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے وزاتِ دفاع کا چارج سنھالا تو وزات کی بری حالت تھی اور افراتفری کا سما تھا۔

جنرل باجوہ کی ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کے دعوے کی تردید

مودی کی پگڑی کیا پیغام دے رہی تھی؟

پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں انڈیا کی جانب سے کی جانے والی مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کے حوالے سے منوہر پاریکر کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اضافی فوجیوں کو تربیت دی گئی۔

سابق وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ انڈیا اور برما کی سرحد پر جب انھیں انڈین فوجیوں پر حملے کی اطلاع ملی تو اس وقت بھی انھیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ان کی ہتک کی گئی ہو۔

منوہر پاریکر کے مطابق برما کی سرحد پر جس دہشت گرد گروہ نے انڈین آرمی پر حملہ کیا تھا ان کے خلاف سرحد پار کامیاب کاروائی کی گئی۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق جمعے کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہو منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ وہ ایک ٹی وی پروگرام دیکھ رہے تھے جس میں برما میں کی جانے والی کارروائی پر بات ہو رہی تھی جب ایک اینکر نے ایک سابق فوجی افسر سے سوال کیا کہ کیا آپ مغربی سرحد پر بھی ایسی کارروائی کرنے کی صلاحیت اور جرت رکھتے ہیں۔

سابق وزیرِ دفاع کے بقول انھوں نے وہ سوال بہت غور سے سنا اور مناسب وقت پر اس کا جواب دینے فیصلہ کیا۔

ادھر بھارت کے زیرکنٹرول کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے منوہر پاریکر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرح حکومتی فیصلہ سازی ہوتی ہے تو کیا ہمیں خود کو محفوظ تصور کرنا چاہیے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں عمر عبداللہ نے لکھا ہے کہ ’سرجیکل سٹرائیک اوڑی حملے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کی گئی کیونکہ ایک وزیر سے کسی نے ہتک آمیز سوال پوچھا تھا۔ انسان اس بارے میں کیا کہے۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں انڈین آرمی نے دعویٰ کیا تھا کہ انھویں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیرِکنٹرول کشمیر میں قائم مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے ایسی کسی بھی کارروائی کی تردید کی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں