’جے شری رام بولو ورنہ گاڑی جلا دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption ’میں اپنے ننھیال بچپن سے ہی آتا جاتا رہا ہوں اور کبھی ایسا پاگل پن اور خوف مجھے سڑکوں پر نہیں دکھا‘

میں دہلی میں 26 سال سے صحافت کر رہا ہوں. میں نے 28 جون 2017 کو اپنے 91 سالہ والد، 85 سالہ والدہ، اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ بہار کے ویشالی ضلع کے کاجی گاؤں سے اپنے ننھیال، ضلع سمستی پور کے رحیم آباد گاؤں جانے کے لیے سفر کا آغاز کیا.

مظفر پورل نیشنل ہائی وے 28 کے ٹول پلازے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور مارگن چوک جانے والے راستے پر ٹریفک جام تھا۔ سڑک کے ایک جانب ٹرکوں سمیت دیگر گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں، میں دوسری جانب سے اپنی گاڑی آگے لے جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ روڈ کے درمیان میں ایک بہت بڑا ٹرک کھڑا کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’میں نے ٹوئٹر پر وزیر اعلی نتیش کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔‘

اچانک ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر کار کو غور سے دیکھا، میں نے اس سے پوچھا راستہ کیوں جام ہے.

میرے اس سوال پر اس نے کہا جلدی نکلو ورنہ آپ کی گاڑی کو جلا دیا جائے گا۔ میں نے پوچھا کون لوگ ہیں؟ جواب ملا بجرنگ دل کے لوگ ہیں، میں گھبراہٹ میں گاڑی موڑنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ چار- پانچ لاٹھی بردار لوگ کار کی طرف بڑھے.

ان لوگوں نے گاڑی کے اندر بیٹھے میرے والدین اور میری بیوی پر نظر ڈالی. چونکہ، میرے والد باریش ہیں اور میری بیوی نقاب پہنتی ہیں. انہیں دیکھتے ہی 'جے شری رام' کے نعرے تیز ہو گئے یہ لوگ مسلسل لاٹھیاں سڑک پر پٹخ رہے تھے.

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس وقت میں اور میرا خاندان گھبراہٹ سے کانپ رہا تھا. جب تک کچھ سمجھ میں آتا تو دو لوگ میری گاڑی کے شیشے کے قریب آکر چیخے ، 'بولو جے شری رام بولو ورنہ گاڑی کو جلا دیں گے۔'

دور کھڑے ٹرک کے پاس سے سیاہ دھویں کا غبار بھی نظر آ رہا تھا، گویا وہاں کسی کی گاڑی جلا دی گئی ہو۔

لیکن مصیبت سامنے تھی لہذا میں نے اور میرے خاندان کے تمام لوگوں نے جے شری رام کے نعرے لگائے. میں دل سے رام کا احترام کرتا ہوں اور اس احترام پر مجھے کچھ اعتراض بھی نہیں لیکن جس خوف اور گھبراہٹ میں مجھے جے شری رام کہنا پڑا یہ مجھے اچھا نہیں لگا۔

جیسے تیسے گاڑی کو واپس موڑ کر ہم اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے اور کچھ دور جانے کے بعد میں نے ٹوئٹر پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے اس واقعے کے بارے میں بتایا۔

اس کے علاوہ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار اور مقامی ممبر اسمبلی اخترالاسلام شاہین کو فون کر کے معاملے کے بارے میں آگاہ کیا۔

میں نے درخواست کی کہ فوری طور پر پولیس کو بھجوایا جائے تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے اور کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ چونکہ میرا یہ سفر ماں کو ان کے بیمار بھائی کی تیمارداری کے لیے تھا لہذا میں دوسرے راستے سے رحیم آباد کے لیے نکل پڑا۔

مختلف راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہم کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد میں رحیم آباد پہنچے۔ ہمیں اسی رات واپس ویشالی لوٹنا بھی تھا اسی لیے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد رات آٹھ بجے میں نے پھر ممبر اسمبلی اخترول اسلام شاہین صاحب کو فون لگا کر اس راستے پر موجود کشیدگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہیں۔

تھوڑی دیر بعد انہوں نے فون کرکے بتایا کہ علاقے میں اب بھی کشیدگی ہے۔ ان کے فون کے بعد مجھے ہمت نہیں ہوئی کہ میں اپنے خاندان کو لے کر اسی راستے سے واپس ویشالی جاؤں. لہذا، میں نے اپنا پروگرام کینسل دیا۔

اس کے بعد شاہ پور کے مجیب صاحب کے گھر رات گزار کر ہم 29 جون کو ویشالی کے لیے روانہ ہوئے۔ لیکن وہ خوف آج بھی ذہن پر سوار ہے کہ آخر کچھ لوگوں کو مذہب کے نام پر موت بانٹنے کی ہمت کیسے ہوئی؟

علاقے کی انتظامیہ سوئی رہتی ہے جس کی کان میں جوئی تک نہیں رینگتی، میرے ذہن میں ایک سوال گونج رہا ہے کہ کیا نتیش کمار کی حکومت ناکام ہو رہی ہے؟ یا پھر بیوروکریسی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے؟

لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ میں اپنے ننھیال بچپن سے ہی آتا جاتا رہا ہوں اور کبھی ایسا پاگل پن اور خوف مجھے سڑکوں پر نہیں دکھا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کو کیا ہوتا جا رہا ہے، کس کی نظر لگ گئی ہے؟

اسی بارے میں