کشمیر: دو شدت پسندوں سمیت چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں نو اپریل کے ضمنی انتخابات کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے۔

سنیچر کی صبح انڈیا کے زیر انتظام اننت ناگ ضلع کے دیالگام علاقے میں جواں سال خاتون طاہرہ بیگم اور شاداب نامی نوجوان اُن سینکڑوں لوگوں میں شامل تھے، جو برینتی گاؤں میں جاری مسلح تصادم کی جگہ فورسز کے خلاف مظاہرہ کررہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مکان میں لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر بشیر لشکر اور ان کے ساتھی آزاد احمد چھپے ہوئے تھے اور گاوں کا محاصرہ ہوتے ہی شدت پسندوں نے فائرنگ کی جسکے بعد کراس فائرنگ میں دو شہری مارے گئے۔ تاہم مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مظاہرین پر فورسز نے براہ راست فائرنگ کی۔ اس دوران ایک اور خاتون دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں۔ سات گھنٹوں کی معرکہ آرائی کے بعد فوج نے دعوی کیا کہ بشیر لشکر اور آزاد کو ہلاک کیا گیا۔

تصادم کی جگہ عوام کے مظاہروں کا رجحان گذشتہ برس جنوری میں جنوبی کشمیر کے اُن علاقوں سے شروع ہوا جہاں فوج اکثر مقامی شدت پسندوں کا محاصرہ کرتی تھی۔ مقامی وزیراعلی محبوبہ کے علاوہ پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں نے بار بار لوگوں سے اپیلیں کیں کہ وہ تصادم کی جگہ مظاہرے نہ کریں۔

پولیس کے سربراہ شیش پال وید نے یہاں تک کہا کہ 'آپریشن کے دوران گولی یہ نہیں دیکھتی کہ کون شدت پسند ہے اور کون عام شہری۔'

ان اپیلوں کا کوئی اثر نہ ہوا تو بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے بیان دیا کہ جو لوگ شدت پسندوں کو بچانے کے لئے فوجی آپریشن میں مخل ہوں گے انہیں بھی شدت پسند ہی تصور کیا جائے گا۔ لیکن اس سخت بیان کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔

پولیس کے مطابق گذشتہ 18 ماہ کے دوران ایسے مظاہروں کے دوران دو خواتین سمیت 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس مدت کے دوران 14 مرتبہ ایسا ہوا کہ مقابلے کی جگہ عوامی ہجوم جمع ہونے کے باعث شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

سنیچر کو دیالگام میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف حریت کانفرنس کے متحدہ فورم نے اتوار کو ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع پلوامہ، شوپیان، کولگام اور اننت ناگ میں گذشتہ چند برسوں کے دوران مسلح پسندی کی ایک نئی لہر پھیل گئی ہے۔ اس لہر میں نوجوان مسلح کمانڈر برہان مظفر وانی نے فیس بک اور یوٹیوب کے استعمال سے شدت پیدا کردی تھی۔ برہان کو گذشتہ برس اننت ناگ کے بم ڈورہ علاقے میں ایک مختصر تصادم کے دوران ہلاک کیا گیا، جسکے بعد وادی بھر میں احتجاجی لہر شروع ہوگئی جس میں اب تک 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔

آٹھ جولائی کو برہان وانی کی پہلی برسی کے سلسلے میں پاکستان میں مقیم مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین نے اجتماعی فاتحہ خوانی ، مظاہروں اور ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ صلاح الدین کو حال ہی میں امریکی دفترخارجہ کی طرف سے عالمی دہشت قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں