ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا فروغ بہت خطرناک

تصویر کے کاپی رائٹ PIB

پاجامہ قمیض پہنے، ہاتھ میں ڈبا لیکر جنگل کی طرف 'کھلے میں رفع حاجت' کے لیے جانے والے دیہاتی آدمی کے پیچھے کچھ خواتین اور لڑکیاں دوڑ رہی ہیں۔

ان سے بچنے کے لیے وہ خوفزدہ ہوکر بھاگتا ہے لیکن پھر یہ خواتین اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں اور ٹوائلٹ کے اندر جانے پر مجبور کرتی ہیں۔ پیچھے سے گانے کی آواز آتی ہے۔۔۔۔ دروازہ بند تو بیماری بند۔

لنچنگ رپبلک آف انڈیا

مردہ گائے پر فساد، مسلمان کے مکان کو آگ لگا دی

’گائے کا گوشت کھانے پر مسلمان لڑکوں کو نشانہ بنایا‘

کھلے آسمان تلے پیشاب یا پاخانہ کرنے کے خلاف انڈین حکومت کی طرف سے جاری اس ویڈیو فلم کا پیغام واضح ہے۔

ایک ایسی ہی ذاتی کمپنی کی صفائی مہم والے اشتہار میں جھاڑی کے پیچھے رفع حاجت کرنے والے گاؤں کے مردوں کا خواتین چاروں طرف سے محاصرہ کر کے انہیں شرمندہ کرتی ہیں اور ان میں سے ایک ان پر پتھر بھی پھینکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB

ہریانہ میں میوات کے علاقے کے ڈپٹی کلیکٹر منی رام شرما تین چار بزرگوں کو پولیس کی جیپ کے سامنے مجرموں کی طرح زمین پر بیٹھا کر فوٹو بنواتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں: 'آج ان کی اکڑ ڈھیلی کرنی تھی اور تسلّی سے کر بھی دی۔'

راجستھان کے ضلع پرتاب گڑھ میں شہری انتظامیہ کے ملازمین صبح صبح راؤنڈ پر نکلتے ہیں اور کھیتوں میں رفع حاجت میں نکلنے والی خواتین کی کیمرے سے تصویر لیتے ہیں۔ اس کی مخالفت کرنے والے ظفر حسین کو مار مار کر ہلاک کردیا جاتا ہے۔

یو پی کے ضلع فیروز آباد میں سرکاری ملازمین گاؤں والوں کو کھلے آسمان تلے پاخانہ کرنے والوں سے ڈنڈے کے زور پر نمٹنے کی تربیت دیتے ہیں۔ اور پھر ان کے رضا کاروں کا ہجوم روزانہ صبح ہاتھوں میں ٹارچ اور ڈنڈے لے کر سیٹیاں بجاتا ہوا جنگل یا جھاڑیوں میں رفع حاجت کرنے والوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ملک میں آئے دن جگہ جگہ پر گاؤ رکشا کے نام پر مسلمانوں کی لِنچنگ کا تعلق بظاہر صفائی مہم سے نہیں ہے لیکن اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سماجی زندگی میں ہجوم کا عمل دخل بڑھتا جائے گا۔

سماج میں شراکت کے نام پر لوگوں کو اس کے لیے تیار بھی کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ رفع حاجت کے لیے کھلے میدان میں جاتے ہیں تو ہجوم آپ سے نمٹ لے گگ، اگر پٹائی نہیں تو شرم سار ضرور کرے گا۔ اور ہجوم کو یہ معلوم ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والوں کی اکڑ کو ڈھیلی کرنے کے لیے ڈپٹی کلیکٹر تیار ہے۔

اگر آپ گائے بھینس جیسے مویشیوں کا کاروبار کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسی ٹوپی داڑھی ہے تو ہجوم آپ کو بچ کر نکل جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ہجوم کو معلوم ہے کہ اس طرح کے قتل کو کبھی حادثہ تو کبھی جذبات میں اٹھایا گيا قدم بتانے کے لیے وزرا، وزيراعلیٰ اور ارکان پارلیمان تیار بیٹھے ہیں۔

عوام کو متحد کر کے سیاسی جدوجہد کرنا اور کامیاب ہونا جمہوری سیاست کا ایک اہم حصہ ہے۔

لیکن اپنی بات کو منوانے کے لیے عوام کو ہجوم میں بدلنے اور ہجوم کو ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا راستہ اس منزل کی طرف لے جاتا ہے جہاں اکثریتی طبقہ جمہوریت کو غیر ضروری اور ناقابل قبول تصور کرنے لگتا ہے۔ پھر ان کے لیے عدالت، آئین اور قانون کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi Prakash

یہ وہی مقام ہے جہاں ایک مقبول رہنما اتنا طاقتور بن جاتا ہے کہ اسے ایک آمر بننے میں دیر نہیں لگتی ہے۔

اس کے سامنے پھر نہ تو آئین بڑا ہوتا ہے اور نہ ہی قانون کیونکہ برسوں کی محنت سے تیار کی گئی مشتعل ہجوم اپنے رہنما کو ہر شخص سے عظیم تر سمجھنے لگتی ہے اور اگر کوئی اس عظیم شخصیت سے اتفاق نہ کرتا ہو تو وہ اسے غدار سمجھنے لگتی ہے۔

30 اور 40 کے عشرے میں جرمنی اور اٹلی میں یہی ہوا تھا اور یہی ساٹھ کی دہائی میں چین میں ہوا جب ثقافتی انقلاب کے دوران ماؤ زے تنگ نے ریاست کی طاقت تقریباً مکمل طور پر ریڈ گارڈز کو سونپ دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثقافتی انقلاب کے دوران ماؤ زے تنگ نے ریاست کی طاقت تقریباً مکمل طور پر ریڈ گارڈز کو سونپ دی تھی

یہ ریڈ گارڈز عوامی جگہوں پر لوگوں کو سزا دینے لگے۔ اس دور میں چین کے عوام پر ماؤ کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ جب انھوں نے یہ کہا کہ پرندوں نے چین کی فصل کو برباد کر کے رکھ دیا ہے تو لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں پرندوں کو مار دیا تھا۔

کچھ تجزیہ کار اس وقت کے چین کا مقابلہ آج کے بھارت سے کر رہے ہیں۔

آزاد انڈیا میں ہجوم کو بطور ہتھیار کے استعمال کرنے کی شاید سب سے بڑی مثال بابری مسجد کا واقعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آزاد انڈیا میں ہجوم کو بطور ہتھیار کے استعمال کرنے کی شاید سب سے بڑی مثال بابری مسجد کا واقعہ ہے

بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں کارسیوکوں کی بھیڑ ایودھیا میں جمع ہوگئی اور اس کے بعد ان کارسیوکوں نے جو کچھ کیا وہ جگ ظاہر ہے۔ ان کے سامنے مرکزی حکومت لاچار بیٹھی رہی، پولیس انتظامیہ سب کچھ دیکھتی رہی، اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی کچھ نہ کر سکی۔

کھلے میدان میں پاخانے کے لیے جانے والے دیہاتی شخص کو زبردستی بیت الخلا میں گھسنے پر مجبور کرنے والے ٹی وی کے سرکاری اشتہارات کو دیکھ کر اگرچے ابھی آپ صرف مسکرا دیتے ہوں، لیکن سماجی طور پر اہمیت رکھنے والے سوالوں کو ہجوم کے ذریعے حل کرنے کے خطرات کو ابھی سے سمجھنا جمہوریت کی خیر کے لیے بہت ضروری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں