'13 برس کی عمر میں لگا کہ اندر کچھ لڑکی جیسا ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ RAVI KUMAR
Image caption تننو سنگھ ٹرانس جینڈر کے لیےہونے والے بیوٹی کانٹیسٹ کی پوسٹر ماڈل ہیں

تنّو جب تیرہ برس کی تھیں تب انھیں احساس ہوا کہ ان کا جسم تو لڑکے کا ہے لیکن ان کے اندر کچھ کچھ لڑکی جیسا ہوتا ہے۔

اپنے خاندان کو یہ سب بتانا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔ 16 سال کی عمر تک ان کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ ایک غلط جسم میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ اور حقیقت میں وہ لڑکی کی طرح ہی ہیں۔ بس یہیں سے تنو نے خود کو تبدیل کرنے کی ابتدا کی۔

لیکن انھیں کی طرح نتاشہ کو صرف تین سال کی عمر میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ اندر سے وہ ایک لڑکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVI KUMAR
Image caption نتاشہ کے والد کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ جو لوگ ان کو ہنسی کا ایک کردار سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ ایک تیار ماڈل ہیں

جسم لڑکے کا اور روح لڑکی کی اور اس کے ساتھ شروع ہوا زندگی کا ایک نیا چیلنج جسے تنّو اور نطاشہ دونوں نے محسوس کیا ہے۔

ماں باپ سے اجازت لیے بغیر ہی اپنا سیکس تبدیل کروا کے لڑکی بننے کے بعد گھر والوں کو منانے میں انھیں کافی پریشانی ہوئی۔ آج بھی دونوں کے اہل خانہ نے ان کو مکمل طور پر اپنایا نہیں ہے۔

نتاشہ کے والد کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ جو لوگ ان کو ہنسی کا ایک کردار سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ ایک تیار ماڈل ہیں۔

اگست کے مہینے میں انڈیا میں 'مس ٹرانس کوئن انڈیا۔ مقابلہ ہونے اولا ہے اور اس کی بھر پور تیاریاں چل رہی ہیں۔ تننو سنگھ اس ایونٹ کی پوسٹر ماڈل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVI KUMAR
Image caption تنو اور نطاشہ دونوں کو ہی اپنے ہم سفر کی تلاش ہے

اگر کوئی محبت کا اظہار کرے تو اس وقت کیا ہوتا ہے؟ اس سوال پر تننو کہتی ہیں کہ زندگی بھر کوئی محبت کرے، ایسا نہیں ہوا ہے۔

نتاشہ کا کہنا ہے کہ محبت سے ہی ہم ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ تنو اور نتاشہ دونوں کو ہی اپنے ہم سفر کی تلاش ہے۔

ماڈلنگ کے بعد تننو اداکار بننا چاہتی ہیں اور نتاشہ بھی بالی وڈ کا رخ کرنا چاہتی ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کو بھی ان کے حقوق ملنے چاہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'جن لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ ایک غلط جسم میں ہیں، ان کو بھی اپنی زندگی جینے کا مکمل حق ہے۔ وہ اپنی بات خاندان کو بتائیں اور اپنی زندگی کو اور خوبصورت بنائیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں