اسرائیل میں مودی کے شاندار استقبال کی تیاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مودی انڈيا کی سابقہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے اس بار فلسطینی خطے کا دورہ نہیں کریں گے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھارت اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات کے قیام کی پچیسویں سالگرہ پر منگل کو اسرائیل کے دورے پر جا رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم ہونگے۔

مودی کے اس دورے کو اسرائیل میں تاریخی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی تل ابیب کے ہوائی اڈے پر جب منگل کو اتریں گے تو ان کا استقبال اسی طرح ہو گا جس طرح امریکہ کے صدر کا ہوتا ہے۔ ہوائی اڈے پر وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو اور ان کی کابینہ وزرا سمیت ملک کی پچاس سے زیادہ اہم شخصیات ان کے خیر مقدم کے لیے ہوائی اڈے پر موجود ہوں گے۔

اخبار ’یروشلم پوسٹ' نے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ اگرچہ وزير اعظم مودی کی طرف سے یہ زور دے کر کہا گیا ہے کہ دفاعی تجارت اس دورے کا کلیدی پہلو نہیں ہے لیکن اس دورے میں کئی دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ اسرائیل انڈیا کو میزائل اور ڈرون طیارے سمیت دفاعی ساز وسامان فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مودی کے اس دورے کو اسرائیل میں تاریخی دورہ قرار دیا جا رہا ہے

اخبار نے لکھا ہے کہ 'کچھ عرصے پہلے تک ان دفاعی سودوں کو راز میں رکھا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں اور گذشتہ پانچ برس میں اسرائیل نے ہر برس اوسطاً ایک ارب ڈالر کے ہتھیار بھارت کو فروخت کیے ہیں۔

ہتھیاروں کی خرید دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کا سب سے اہم پہلو رہا ہے۔ اسرائیل، حالیہ برسوں میں امریکہ کے بعد بھارت کو ہتھیار سپلائی کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ مودی کے دورے سے قبل گذشتہ اپریل میں بھارت نے اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹری کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر کے سودے کا معاہدہ کیاہے۔

اسرائیلی کمپنی رفائیل کے ساتھ بھی ایک بڑا معاہدہ ہوا ہے۔ بھارت کے چار بحر ی جنگی جہازوں پر براک میزائل نصب کرنے کا بھی 630 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔ ان معاہدوں کو اسرائیل کی دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی فروخت بتایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں

انڈیا نے 1947 میں اقوام متحدہ میں اسرائیل کی تخلیق کے لیے فلسطین کی تقسیم کی قرار داد کی مخالفت کی تھی۔ اس نے تین برس بعد اسرائیل کو تسلیم کیا۔ عرب۔ اسرائیل تنازع میں انڈیا کی خارجہ پالیسی واضح طورپر عرب نواز رہی ہے۔ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات 1992 میں قائم ہوئے تھے۔ گذشتہ دس برس میں دونوں ممالک بہت قریب آئے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل کئی ہفتے سے دونوں ممالک کے اہلکار اور سینئر وزرا اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مودی سے پہلے صدر پرنب مکھرجی، وزیر خارجہ سشما سوراج اور ایس ایم کرشنا اسرائیل کا باضابطہ دورہ کر چکے ہیں۔ لیکن ان رہنماؤں نے تل ابیب کے ساتھ ساتھ فلسطینی خطے کا بھی دورہ کیا تھا۔ مودی اس پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے اس بار فلسطینی خطے کا دورہ نہیں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مودی کے اسرائیل دورے کے بارے میں محتاط رد عمل ظاہر کیا گیاہے

اسرائیل میں اسے انڈیا کی بدلی ہوئی پالیسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے محتاط رد عمل ظاہر کیا گیاہے۔ فلسطینی صدر کے ایک مشیر نے روزنامہ 'ہندو' کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا ہے: 'ہم اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اسرائیل سے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات ہمارے رشتوں پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔'

دونوں ملکوں میں اس دورے کے حوالے سے کئی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے کئی اہم پہلوؤں کے بارے میں امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات ابھی واضح نہیں ہیں۔ اسرائیلی اخبار'ہارٹز' نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غیر یقینی کے اس ماحول میں 'کیا امریکہ کا ازالہ دلی کے توسط سے ہو گا ؟' تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انڈیا اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر ابھر سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں