نوے کھرب ڈالر کی چینی بانڈز مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک طویل عرصے کے انتظار کے بعد آخر کار غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے چینی بانڈز کی خرید و فروخت کی سکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بانڈ کنیکٹ کے نام سے شروع کیے جانے والا یہ پراگرام چین کی جانب سے بازار حصص میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لانے کی ایک کوشش ہے۔

نوے کھرب ڈالر چینی بانڈز مارکیٹ دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے لیکن اب تک صرف دو فیصد چینی بانڈز غیر ملکیوں کی ملکیت ہیں۔

اس سکیم کا آغاز ہانگ کانگ کے چینی اقتدار میں آنے کے 20 سال مکمل ہونے کے دن پر کیا جا رہا ہے۔

ان بانڈز میں سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کی واحد وجہ یہ ہے کہ عام طور پر انھیں مقررہ شرح پر منافع دیا جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ بانڈز کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر انھیں مکمل رقم بھی واپس ملتی ہے۔

ابتدائی طور پر چینی بانڈز بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہانگ کانگ کے ذریعے فنڈ مینیجرز سے خریدے جا سکیں گے۔

غیر ملکی بانڈز میں چینی سرمایہ کاری کے لیے تاحال کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ایچ ایس بی سی ہولڈنگز اور بینک آف چائنا کا ایسٹ مینجنمنٹ یونٹ اس سکیم کے ذریعے کاروبار کرنے والے پہلے ادارے ہوں گے۔

غیر ملکی سرمایہ کار اس سے قبل چینی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے کافی محتاط تھے جس کی ایک وجہ تو چینی کرنسی کا غیر مستحکم ہونا تھی۔

چینی حصص کے حوالے سے اسی طرح کا ایک اور نظام حال ہی میں ختم کیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی سٹاک انڈیکس مہیا کرنے والے ایم ایس سی آئی نے پہلی مرتبہ چینی مقامی حصص کو اپنی مارکیٹ میں شامل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اسی بارے میں