'مودی کی بی جے پی اور اسرائیل کی سوچ ایک جیسی ہے'

مودی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈیا اور اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ تعلقات سنہ 1992 میں قائم ہوئے لیکن اس میں تيزی بی جے پی کی حکومت میں آئی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی منگل کی صبح اسرائیل کے تین روز دورے پر روانہ ہوئے ہیں۔ وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے انڈیا کے پہلے وزیر اعظم ہیں۔

انڈیا اور اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ تعلقات سنہ 1992 میں قائم ہوئے تھے لیکن اس میں تيزی بی جے پی کی حکومت میں آئی۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسرائیل کی حکومت کے درمیان سمجھ بوجھ کافی اچھی رہی ہے۔

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے دوران سنہ 1999 میں کارگل کی لڑائی کے وقت دونوں ممالک کے تعلقات کافی آگے بڑھے تھے۔ اس وقت اسرائیل نے اسلحہ اور بارود بھیجنے میں انڈيا کی بہت مدد کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مودی انڈيا کی سابقہ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے اس بار فلسطینی خطے کا دورہ نہیں کریں گے

در اصل بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسرائیل کا ’پولیٹکل آؤٹ لک‘ کافی ملتا جلتا ہے اور میرے خيال سے وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران دونوں ملکوں میں جاری موجودہ تعاون میں اور اضافہ ہو گا۔

انڈیا نے چار پانچ برس قبل اسرائیل کی فوجی سیٹلائٹ کو بھی لانچ کرنے میں مدد کی تھی۔

اسرائیل گذشتہ 15 سے 20 سال میں انڈیا کو دفاعی ساز و سامان دینے کے معاملے میں چوتھا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ، روس اور فرانس کے بعد اسرائیل کا نمبر آتا ہے۔ اسرائیل نے انڈیا کو کئی طرح کے میزائل سسٹم، ریڈار اور ہتھیار مہیا کیے ہیں۔

اسرائیل بذات خود بہت بڑے پلیٹ فارم اور جہاز نہیں بناتا لیکن وہ میزائل اور ریڈار کا نظام بناتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں

گذشتہ ڈیڑھ عشرے میں انڈیا کا اسرائیل پر انحصار میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران جو دفاعی معاہدے ہوں گے، ان کے حوالے سے کافی طویل وقت سے بات چیت چل رہی ہے۔

انڈيا اور اسرائیل اپنے تعلقات پر خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ چین کے ساتھ کوئی بھی ملک اپنے دفاعی سودوں کے تعلق سے، خاص طور پر آلات کے حوالے سے، بڑی ہوشیاری سے آگے بڑھاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چین تقریباً ہر آلے کی ریورس انجینئرنگ کر لیتا ہے اور اسے خود بنانے لگتا ہے۔ بہت سے ملک چین کو دفاعی ساز و سامان فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔

اسرائیل نے چین کو ہوائی جہاز کے ’ارلی وارننگ سسٹم‘ فروخت کیے تھے، لیکن وہ سودا منسوخ ہو گیا۔ اسرائیل کا چین کے ساتھ تجربہ اچھا نہیں رہا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا کے ساتھ وہ بات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈيا دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی ساز و سامان برآمد کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے اور وہ آئندہ کئی سالوں تک اسرائیل کا اہم صارف بنا رہے گا۔

انڈیا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے بھی کافی تعاون ہوتا ہے۔

اسرائیل نے سفارتی، سیاسی اور دفاعی لحاظ سے انڈيا کو یہ بتایا ہے کہ جس طرح سے اس کے ملک کے آس پاس کئی اسلامی ممالک ہیں اسی طرح انڈيا کے سامنے بھی اسلامی خطرہ موجود ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں