ایران میں کارٹون مقابلے میں ٹرمپ کا مذاق اڑایا گيا ہے

ہادی اسدی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اس مقابلے میں ایرانی کارٹونسٹ ہادی اسدی کے اس کارٹون کو پہلا مقام حاصل ہوا جس میں ٹرمپ کو ڈالر کے نوٹوں کی ایک جیکٹ پہنے اور اور ان کے پیلے بال جلتے ہوئے دکھایا گيا ہے

ایران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر کارٹون کا ایک مقابلہ ہوا جس میں دنیا بھر کے سینکڑوں کارٹونسٹس نے حصہ لیا اور اپنے فن سے ٹرمپ کو نشانہ بنایا۔

اس مقابلے میں ایرانی کارٹونسٹ ہادی اسدی کے اس کارٹون پہلے نمبر پر آیا جس میں ٹرمپ کو ڈالر کے نوٹوں کی ایک جیکٹ پہنے اور ان کے پیلے بال جلتے ہوئے دکھایا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اس بار کا لوگو نازیوں کی علامت پر مبنی تھا جس میں سواستکا کی جگہ لفط ٹی کو شامل کیا گيا تھا۔

کارٹون کے اس مقابلے کی تھیم ’ٹرمپ ازم‘ تھی۔ تہران میں اس کا اہتمام کرنے والوں نے ماضی میں بھی نام نہاد اسلامی شدت پسند تنظیم داعش اور ہولوکاسٹ جیسے موضوعات پر پہلے بھی ایسی نمائشوں کا اہتمام کیا ہے۔

اس بار کا لوگو نازیوں کی علامت پر مبنی تھا جس میں سواستکا کی جگہ لفط ٹی کو شامل کیا گيا تھا۔ اس میں ایک طرح سے نازی ازم اور امریکی صدر کے درمیان موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اس مقابلے میں امریکہ اور برطانیہ سے بھی کئی کارٹونسٹ نے شرکت کی۔

کارٹون کی نمائش کے منتظم مسعود شجاعی طباطبائی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: 'ٹرمپ ازم میں ازم سے ریس ازم یعنی نسل پرستی اور نازی ازم کی طرف اشارہ ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے ریمارکس ہٹلر ہی جیسے ہیں۔ میڈیا اور پناہ گزینوں کے تعلق سے ان کا رویہ بھی بہت برا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس برس کے دوسرے بعض کارٹونوں میں ٹرمپ کا میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے کی بات کرنا، خواتین کے خلاف تشدد اور میڈیا پر حملے جیسے موضوعات کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس مقابلے میں امریکہ اور برطانیہ سے بھی کئی کارٹونسٹس نے شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

امریکی فنکار کلیٹون جانز نے اپنے کام میں معروف ٹائم میگزین کی دو کاپیاں دکھائی ہیں جس میں سے ایک پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر ہے جبکہ دوسری پر ہٹلر کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

ان دونوں کو میگزین کی کاپی پر 'پرسن آف دی ایئر' یعنی سال کی عظیم شخصیت کے طور پر پیش کیا گيا ہے۔ اس میں ٹرمپ ہٹلر سے کہہ رہے ہیں: 'یہ بڑے عزت و احترام کی بات ہے۔' اور اس کے جواب میں ہٹلر کہتا ہے: ’جی۔‘

اسی گروپ نے گذشتہ برس تہران میں ہولوکاسٹ جیسی تھیم پر ایک مقابلہ رکھا تھا جس کی اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے مذمت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

لیکن اس کا انعقاد کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد آزادی اظہار پر مغربی ممالک کے دہرے معیار کو عیاں کرنا ہے نا کہ نازیوں کی جانب سے نسل کشی کی تردید کرنا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں