انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کی کیا وجہ ہے؟

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے

گذشتہ چار ہفتوں سے چین اور انڈیا کی ایک دوسرے کے ساتھ 3500 کلومیٹر لمبی مشترکہ سرحد کے معاملے پر چپقلش جاری ہے۔

1962 میں بھی ان دودنوں ملکوں کے درمیان سرحد کے تنازع کی وجہ سے جنگ چھڑ گئی تھی اور 55 برس گزر جانے کے بعد بھی کئی علاقوں پر ابھی تنازع باقی ہے۔

’چینی سڑک کی تعمیر سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ‘

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

گذشتہ ماہ شروع ہونے والے تنازع کے بعد دونوں ملکوں نے سرحدوں پر اپنی افواج میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو پیچھے ہٹنے کو کہا ہے۔

یہ تنازع شروع کب ہوا

یہ معاملہ اس وقت اٹھا جب انڈیا نے چین کی جانب سے سرحدی علاقے میں سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کی مخالفت کی۔ یہ علاقہ انڈیا کے شمال مشرقی صوبی سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے اور اس علاقے پر چین اور بھوٹان کا تنازع جاری ہے جس میں انڈیا بھوٹان کی حمایت کر رہا ہے۔

انڈیا کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے چین کو انڈیا پر سٹریٹیجک برتری حاصل ہو جائے گی۔

انڈیا کے فوجی حکام نے اس سڑک کی تعمیر پر احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ 'ہم نے فائرنگ نہیں شروع کی۔ ہمارے جوانوں نے صرف ایک انسانی دیوار کھڑی کر دی تاکہ چینیوں کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔'

دوسری جانب چینی حکام کا کہنا ہے کہ انڈین سرحدی گارڈز نے معمول کی سرگرمی روکنے کی کوشش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور چین خطے کے دو طاقتور ترین ملک ہیں اور ان کے آپس میں تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے

اب کیا صورتحال ہے؟

چین کے سفیر برائے انڈیا لوؤ ژاوئی نے انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ 'امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا بغیر کسی شرائط کے اپنی افواج سرحد سے پیچھے بلا لے۔'

سفارتی حلقوں میں چینی سفیر کا یہ بیان معاملات میں تیزی لانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

چین نے انڈیا سے آنے والے 57 زائرین کو بھی سرحد پار کرنے سے روک دیا تھا جو سکم سے ہوتے ہوئے تبت میں واقع ایک ہندو مذہبی مقام کی زیارت کرنے جا رہے تھے۔ واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہے کہ زائرین کو اس مقام پر جانے سے نہیں روکا جائے گا۔

بعد میں چین نے ہماچل پردیش سے داخل ہونے والے 56 زائرین کو اس مقدس مقام جانے کی اجازت دے دی۔

ادھر بھوٹان نے بھی چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سڑک کی تعمیر بند کریں کیونکہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

انڈیا اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

انڈیا کے عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ سکم وہ واحد علاقہ ہے جہاں سے انڈیا چین پر جنگ کی صورت میں چڑہائی کر سکتا ہے اور یہ ہمالیہ کے خطے کا واحد علاقہ ہے جہاں انڈیا کی فوج کو چین پر جغرافیائی سبقت حاصل ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین فوج کے سابق میجر جنرل گگنجیت سنگھ نے کہا کہ 'چین جانتا ہے کہ اس مقام کی کیا اہمیت ہے اور وہ ہمیشہ سے ہماری برتری کو ختم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔'

انڈیا کے وزیر دفاع ارون جیٹلی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ '2017 کا انڈیا 1962 والا انڈیا نہیں ہے اور وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1962 میں ہونے والی جنگ میں چین نے انڈیا کو زبردست شکست دی تھی

چین اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

چین نے اس علاقے پر اپنی سالمیت کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس کا اپنا علاقہ ہے اور انڈین فوج وہاں زبردستی داخل ہونے کوشش کر رہی ہے۔

چین نے انڈیا کو خبردار کرتے ہوئے اسے 1962 کی جنگ میں ہونے والی شکست یاد دلائی اور کہا کہ اب کا چین اس وقت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس خطے میں انڈیا اور چین کے درمیان 1967 میں بھی جھڑپیں ہوئی تھیں اور ابھی بھی وقتاً فوقتاً حالات میں گرمی آتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ واقعہ حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ کشیدہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بت کے مذہبی رہنما دلائی لاما کی انڈیا میں رہائش بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک اور وجہ ہے۔

تبت کے مذہبی رہنما دلائی لاما کی انڈیا میں رہائش بھی ان دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک اور وجہ ہے۔

ہماچل پردیش سے جانے والے زائرین کو چین میں ہندؤوں کے مقدس مقام پر جانے کی اجازت دینے پر کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات تمام سرحدی علاقوں پر نہیں بلکہ صرف سکم اور بھوٹان کے درمیان واقع سرحد پر کشیدہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں