'کچن کی سیاست' سے بھرے انڈین ٹی وی سیریل

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ’جسی جیسی کوئی نہیں‘ میں لڑکی کا کردار بہت مضبوط اور ترقی پسند دکھایا گیا تھا

انڈیا میں آجکل بالی وڈ فلموں کے بارے میں سینسر بورڈ کافی سرگرم ہے۔

کبھی بعض مناظر پر اعتراض تو کبھی فلموں میں استعمال ہونے والے ڈائیلاگ پر قینچی چلتی ہے کہ یہ عوام کے لیے مناسب نہیں لیکن کیا سینسر بورڈ کی ایسی ہی نظر ٹی وہ سیریلز پر بھی ہوتی ہے۔

شاہ رخ خان کا مزاح اور مادھوری کی پریشانی

سلمان خان کو باہوبلی سے ڈر نہیں لگتا

جلد ہی ایک سیریل آنے والا ہے جس کے پروموز آجکل ٹی وی پر نظر آ رہے ہیں۔

'پہرے دار پیا کی' نام کے اس سیریل میں ایک 10 سال کے لڑکے کو 18 سال کی لڑکی کی مانگ میں سندور بھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے بچوں کی شادی پر ایک سيريل 'بالیکا ودھو' مشہور ہوا تھا جس میں دو بچوں کی شادی دکھائی گئی تھی۔

آجکل انڈین ٹی وی چینلز پر جو سیریل آتے ہیں وہ اسی اور نوے کی دہائی کے سیریلز سے بالکل مختلف ہیں۔

اس تبدیلی کے بارے میں اداکارہ مندیرا بیدی کہتی ہیں 'اب جو کہانیاں بنتی ہیں اور ان میں جو عورتوں کے کردار ہیں وہ ہمیں پیچھے لے کر جا رہے ہیں‘۔

مندیرا کا کہنا ہے کہ اب وہ سیریل نہیں کرنا چاہتیں. اب یہ 'کچن کی سیاست' سے بھرے شو ہیں. ان سيريلز میں عورتیں آپس میں ہی لڑتی رہتی ہیں اور کردار گھر سے باہر نکلتے ہی نہیں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ٹی وی سیریلز پر سینسر بورڈ کی نظر کیوں نہیں

مندیرا بیدی نے چھوٹے پردے پر نشر ہونے والے سیریل 'امن' میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس سیریل میں مندیرا نے ایک صحافی کا کردار ادا کیا تھا اور معاشرے میں کچھ طاقتور لوگوں سے ٹکر لیتی دکھائی دیتی ہیں۔

مندیرا کا کہنا تھا 'اس وقت ہمارا نظریہ یہ ہوتا تھا کہ ان کہانیوں لوگوں کو، خاص کر عورتوں کو تحریک ملے۔ لیکن آجکل سب کچھ بدل گیا ہے۔ آج کل سیریل کا جو مرکزی کردار ہے وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا اور اس کا کردار کہانی میں زیادہ تر ویمپ کا ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے ٹی وی پر آنے والا سیریل جو مجھے پسند آیا وہ ہے 'جسی جیسی کوئی نہیں'۔

ایک وقت تھا جب دوپہر کو 'امن' اور 'سوابھیمان' اور رات کو 'حسرتیں'، 'تارا' اور 'کورا کاغذ‘ اور 'سانس' جیسے سیریل آتے تھے. جہاں ڈیلی سوپ کی کہانی شروع ہوئی، وہیں سے شروعات ہوئی ایسی کہانیوں کی جس میں صرف باورچی خانے کی سیاست ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ’جسی جیسی کوئی نہیں‘ میں لڑکی کا کردار بہت مضبوط اور ترقی پسند دکھایا گیا تھا

اسی اور نوے کی دہائی کے 'امتحان' اور 'کورا کاغذ' میں اداکارہ رینوکا شہانے نے ایک مضبوط عورت کا کردار ادا کیا تھا۔

'امتحان' میں جہاں رینوکا کا کردار اپنے والد کی موت کے بعد خاندان کی کھوئی ہوئی دولت واپس لاتی ہے تو 'کورا کاغذ' مرکزی کردار معاشرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے دیور کے لیے جو وہ محسوس کرتی ہے اسے چھپاتی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Asha parekh
Image caption پسماندہ خیالات والے سیریلز بنانے والی بھی خواتین ہی ہیں

رینوکا شہانے کا کہنا ہے اسی اور نوے کی دہائی میں سب کے پاس ٹی وی نہیں ہوتا تھا تو کچھ لوگوں کے لیے ہی سیریل بنتے تھے۔

’پھر بہت لوگوں کے پاس ٹی وی آیا اور ڈیلی سوپ کا دور شروع ہوا جس کے بعد کہانیاں بھی تبدیل ہو گئیں اور پھر شروع ہوا ٹی آر پی کا کھیل‘۔

رینوکا کا کہنا ہے کہ نوے کی دہائی کے بہت سارے سیریل تو تاریخ پر مبنی ہوتے تھے۔ کہانی میں بہت کچھ مختلف ہوتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ پرانے خیالات والے سیریلز میں پڑھی لکھی عورتیں ہی نظر آتی ہیں اور یہ سیریل بنانے والی بھی عورتیں ہی ہیں۔ میں نے کچھ سے پوچھا کہ آپ کس طرح ایسے سیریل بناتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ٹی آر پی کے لیے'۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں