’دونوں لڑکیوں کا آپس میں کیا رشتہ تھا؟‘

جنسی تشدد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گھریلو وجوہات سے لڑکیوں کا کام چھوڑنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بنگلور میں دو سہیلیوں کے ساتھ جو ہوا وہ واقعی حیرت انگیز واقعہ ہے۔

یہ کہانی ایک لڑکی کی ہے جس پر شادی کے لیے گھر والوں کا بہت دباؤ تھا۔ وہ پڑھنا چاہتی تھی، کام کرنا چاہتی تھی لیکن گھر والے اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

ایک روز اس نے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ دیا۔ پھر لڑکی کے والد نے پولیس میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔

کرن کی خود نوشت: ہم جنس پرستی پر بحث تیز

اور ٹھیک اسی وقت لڑکی نے بھی عورت کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم اور ایک وکیل کی مدد مانگی۔

صحافی عمران قریشی کے مطابق کرناٹک پولیس کے ڈپٹی کمشنر ایم این انوچیت نے بی بی سی کو اس معاملے پر بتایا کہ 'ہم نے اس لڑکی کا بیان درج کیا تھا۔ وہ بالغ تھیں، اور اپنی مرضی سے کچھ کرنے، کہیں جانے اور کسی کے ساتھ رہنے کے لیے آزاد تھیں۔‘

اس لڑکی نے کام کرنا شروع کر دیا اور ایک سہیلی کے ساتھ رہنے لگی۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔

آٹھ ہفتے بعد اس کی کہانی نے اچانک ایک نیا موڑ لیا اور اس کو نوکری گنوانی پڑی۔

ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ 'شہر کے پہلے ہم جنس پرست جوڑے نے ایک مندر میں شادی کی۔'

یہ کہا گیا کہ ایک لڑکی کے والد کی مبینہ شکایت کے بعد اخبار نے خبر شائع کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

الٹرنیٹو لا فورم میں بطور ریسرچ کنسلٹنٹ کام کرنے والی رومی ہریش کہتی ہیں کہ 'ہمیں نہیں معلوم کہ یہ شکایت کہاں سے ملی کہ وہ ہم جنس پرست تھی۔ اگر دو لڑکیاں ساتھ رہتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہم جنس پرست جوڑا ہے۔'

رومی ہریش کہتی ہیں کہ'یہ مسئلہ تب گرم ہوا جب ایک علاقائی چینل نے ان کی تصاویر کیں۔ جہاں تک کام جانے کا سوال ہے، ہم ان کی کمپنیوں کو لکھ رہے ہیں کہ اس کی بنیاد پر ان کی خدمت ختم نہیں کی جا سکتی۔'

ٹی وی پر رپورٹ آنے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ان میں سے ایک لڑکی کو کمپنی نے نوکری سے نکال دیا تھا۔

اس مسئلے پر دونوں لڑکیاں میڈیا سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں