چین کی جانب سے ’طاقت کا مظاہرہ‘، طیارہ بردار بحری بیڑہ ہانگ کانگ میں

چین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 300 میٹر طویل طیار برادر بیڑہ در اصل سویت جہاز کوزنیتسوف کی تزیئن نو کر کے بنایا گیا ہے

چین کا پہلا طیارہ بردار بحری بیڑہ ’لیاؤننگ‘ ہانگ کانگ پہنچ گیا ہے۔

یہ اس بیڑے کا چین سے باہر پہلا دورہ ہے اور یہ برطانیہ کی جانب سے ہانک کانگ کی چین کو حوالگی کے 20 برس پورے ہونے کے موقع پر لایا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی ہانگ کانگ کا دورہ کیا تھا۔

* چینی صدر شی جن پنگ کا پہلا دورہ ہانگ کانگ

ان کے دورے کے دوران احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ہانک کانگ کی مرکزی حکومت کو کسی بھی طریقے سے چیلنج کرنا ناقابلِ قبول عمل ہوگا۔

خود انحصاری اور حتیٰ کہ آزادی کے مطالبوں میں اضافے کے باعث حالیہ برسوں میں ہانک کانگ میں سیاسی صورتحال کافی کشیدہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ چین کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی عسکری موجودگی کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا حصہ ہے

لیاؤننگ کی علاقے میں موجودگی کو بعض لوگ بیجنگ کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم ہانگ کانگ کے کئی لوگ اسے دیکھنے کے لیے مفت ٹکٹ کے حصول کے لیے قطاروں میں بھی کھڑے ہیں۔

اس بیڑے کے ساتھ تین جنگی جہاز بھی ہیں جو ہانگ کانگ کے تسنگ یی جزیرے کے پاس پانچ دن کے لیے لنگر انداز ہوں گے۔

300 میٹر طویل طیار برادر بیڑہ دراصل سویت جہاز کوزنیتسوف کی تزیئن نو کر کے بنایا گیا ہے جسے چین نے سنہ 80 کی دہائی میں یوکرین سے خریدا تھا۔

یہ چین کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی عسکری موجودگی کو بڑھاوا دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اپریل میں چین نے خود ساختہ پہلا طیارہ بردار بیڑہ بنایا تھا۔ یہ سنہ 2020 میں آپریشنل یعنی کام کرنے کی حالت میں آ جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں