کیا آپ نے ایران میں غاروں والا گاؤں دیکھا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

ایران قدرتی خوبصورتي سے بھرپور ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ میدانی علاقوں میں رہتا ہے۔ لیکن ایران کے کچھ لوگ آج بھی غاروں میں بھی رہتے ہیں۔ یہ تصاویر اسی گاؤں کی ہیں۔

ایران کا ایک قدیم گاؤں میمند ہے۔ یہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 900 کلو میٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔

اس گاؤں کی آبادی خانہ بدوشوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے باشندے پہاڑی غاروں میں رہتے ہیں۔ ان غاروں کو ملائم پتھروں کو کاٹ کر اور تراش کر بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

ان غاروں میں جس طرح کی نقاشی کی گئی ہے اس کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ غار دس ہزار سال پرانے ہیں۔ یونیسکو نے اس علاقے کو عالمی وارثہ قرار دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ میمند کے غار تقریباً دو ہزار سال سے آباد ہیں۔ وسطی ایران کی زیادہ تر پہاڑیاں خشک ہیں اس لیے یہاں موسم گرما میں سخت گرمی اور موسم سرما میں سخت سردی ہوتی ہے۔

موسم کے مطابق یہاں کے لوگ ان غاروں میں رہتے ہیں۔ سخت گرمی اور موسم خزاں میں لوگ چھپر ڈال کر پہاڑوں پر رہتے ہیں۔ یہ چھپر تپتی دھوپ سے انھیں سایہ مہیا کرتا ہے جبکہ سخت سردی کے موسم میں یہ لوگ ان غاروں کے اندر چلے جاتے ہیں اور پوری سردی وہیں رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب سے تقریباً دس ہزار سال پہلے پہاڑوں کو کاٹ کر 400 غاروں کو بنایا گیا تھا۔ ان میں سے اب صرف 90 باقی بچے ہیں۔ غاروں میں بنے ان مکانات میں تقریباً سات کمرے ہوتے ہیں۔ ان کی لمبائی دو میٹر اور چوڑائی 20 میٹر ہوتی ہے۔

بعض کمرے کم چوڑے اور کم بلند بھی ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے غاروں کا نام سن کر آپ کے دل میں خیال آ رہا ہو کہ یہ گھر قدیم زمانے جیسے ہوں گے تاہم ایسا نہیں ہے۔ یہاں رہنے والوں نے ان غاروں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ آج آپ کو یہاں پر ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

جس شخص کی جو حیثيت ہے اس کی مناسبت سے وہ اپنے ان گھروں کو بھی رکھتا ہے۔ ان غاروں میں بجلی کی بھرپور سپلائی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں فریزر اور ٹی وی وغیرہ کا خوب استعمال ہوتا ہے۔ پانی کے لیے بھی لوگ کو پریشان نہیں ہونا پڑتا ہے کیونکہ پانی یہاں پر بھرپور مقدار میں مہیا ہے۔

البتّہ ہوا کا گزر ان گھروں میں بالکل نہیں ہوتا۔ کھانا بنانے پر گھر سیاہ نہ ہو اس کے لیے دیواروں پر کالی فلم لگا دی جاتی ہے۔ اس سے دھواں دیوار پر نہیں جمتا ہے اور آ‎سانی سے اسے صاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے کمرے بھی زیادہ گرم نہیں ہوتے ہیں۔ میمند گاؤں کے بیشترافراد پارسی مذہب کے ماننے والے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

پارسی مذہب، ایران کا سب سے پرانا مذہب ہے۔ کسی دور میں یہاں پارسیوں کی بڑی آبادی رہتی تھی۔ اس کے کچھ نشانات آج بھی ملتے ہیں۔ کچن دو بندی ایسا ہی ایک غار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہ پارسیوں کا مندر تھا۔ لیکن 7 ویں صدی میں اسلام کے پھیلنے کے بعد یہ نشانات ختم ہونے لگے۔

آج بہت سے ایسے غار مساجد میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس گاؤں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ کاشتکار یا چرواہے ہیں۔ یہ اپنے مویشیوں کو انھیں پہاڑوں پر چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں. جہاں جہاں خود وہ جاتے ہیں، وہاں وہاں اپنے ساتھ اپنے جانور بھی لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ ان پہاڑوں میں جڑی بوٹياں بھی تلاش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

یہاں کے باسیوں کا دعویٰ ہے کہ ان جڑی بوٹیوں کا استعمال کرنے سے ان کی صحت ٹھیک رہتی ہے۔ اس سے انھیں لمبی زندگی ملتی ہے. اگرچہ آج لوگ ان غاروں میں بسنے سے گریز کرتے ہیں۔ غاروں میں رہنے کے بجائے وہ آس پاس کے شہروں میں بسنے چلے جاتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں یہ خانہ بدوش لوگ واپس ان پہاڑوں پر آ جاتے ہے۔

ایک اندازے کے مطابق صرف 150 لوگوں کی آبادی ہی پورے سال ان پہاڑوں پر رہتی ہے۔ کم ہوتی آبادی کی وجہ سے اس علاقے کی اپنی شناخت کھونے کا ڈر پیدا ہو گیا ہے۔ اس علاقے کا انوکھا معیار زندگی ہی اس علاقے کی شناخت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

اس کے تحفظ کے لیے سنہ 2001 میں ایران کے 'کلچرل ہیریٹیج ہینڈي كرافٹ اینڈ ٹورزم آرگنائزیشن' نے ایک بیداری مہم شروع کی تھی۔ اسی کے بعد سے یہاں اب لوگوں کا آنا بڑھ گیا ہے۔ اب یہ علاقہ سیاحت کے ایک مقام کے طور پر تیار ہو گیا ہے۔ ان غاروں میں سیاح کچھ دن گزارنے کے لیے ٹھہرتے ہیں۔

تاکہ وہ دور قدیم کے رہن سہن کا تجربہ کر سکیں۔ یہی اس علاقے کی شناخت ہے۔ اگر کبھی موقع ملے تو آپ بھی میمند گاؤں کی سیر کے لیے جائیں۔ یقیناً یہاں رہنے کا تجربہ آپ کی زندگی کے لیے یادگار رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rodolfo Contreras

متعلقہ عنوانات