کاش ایسی ’چڑیل‘ ہر گاؤں میں ہوتی!

وادی چناب، کشمیر
Image caption چناب کی خوبصورت دلکش وادی میں سڑک پہاڑی اور تنگ ضرور تھی مگر ہموار اور اچھی تھی

آج آپ کو ایک نہایت ہی غیر معمولی سکول کی سیر کراتے ہیں۔ یہ سکول انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پہاڑی ضلع ڈوڈا میں ایک دور افتادہ گاؤں میں قائم ہے اور یہ گاؤں ہمالیہ کے ایک اونچے اور دشوار گزار پہاڑ پر واقع ہے۔

اتنا دشوار گزار کہ وہاں نہ گاڑی جاتی ہے نہ بس۔ کیونکہ سڑک ہے ہی نہیں۔ ایسے گاؤں کے بچے اگر آپ سے شیکسپئیر اور ہیری پوٹر کی بات کریں، فرینچ میں گانا گائیں، تو کہانی غیر معمولی تو ہوئی ناں۔

بریسوانا کا ایک غیرمعمولی سکول

بریسوانا تک کا سفر

آپ کو اونچائی سے ڈر لگتا ہے؟ مجھے لگتا ہے۔ آپ کبھی گھوڑے پر بیٹھے ہیں؟ میں نہیں بیٹھی۔ آپ کبھی گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑ پر چڑھے ہیں؟ میں نہیں چڑھی۔

بریسوانا جانے کا ارادہ کیا، تو یہ سوچ کر بہت خوش تھی کہ ایک دلچسپ اور منفرد کہانی بی بی سی اردو کے چاہنے والوں تک پہنچاؤں گی۔ یہ نہیں سوچا کہ کہانی فلمبند کرنے کے لیے بریسوانا پہنچوں گی کیسے!

ڈوڈا تک کا سفر تو طے ہو گیا۔ چناب کی خوبصورت دلکش وادی میں سڑک پہاڑی اور تنگ ضرور تھی مگر ہموار اور اچھی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیرکے ضلع ڈوڈا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک غیر معمولی سکول تک رسائی کے لیے سفر بھی بہت دلچسپ تھا۔

ڈوڈا سے آگے کا سفر ہم اپنی گاڑی میں نہیں طے کر سکتے تھے۔ کیونکہ ڈوڈا سے آگے سڑک بس نام کی ہی ہے، اور ایسی خطرناک اور مشکل کہ صرف اسی علاقے کے رہنے والے ڈرائیور اس پر اپنی گاڑیاں چلاتے ہیں۔

پتلی، تنگ، نہ ہونے کے برابر سڑک جو کبھی نالے میں تبدیل ہو جاتی تو کبھی غائب ہی ہو جاتی۔ جیسے تیسے تین گھنٹے بعد سرینی پہنچے، جہاں پر سڑک ختم ہو جاتی ہے۔

وہاں سے آگے؟ اللہ کا نام لیجیے، خچر پر چڑھیے، اور دونوں ہاتھوں سے زین کو پکڑے رکھیے! ڈیڑھ گھنٹے کی خاصی اونچی اور مشکل چڑھائی کے بعد ہم آخر کار بریسوانا پہنچے۔ چھوٹا سا، نہایت ہی خوب صورت، پہاڑوں میں گھرا ہوا، بریسوانا۔

حاجی پبلک سکول

حاجی پبلک سکول بریسوانا
Image caption حاجی پبلک سکول ان بچوں کی زندگی بدل رہا ہے

ہماری ٹیم کے گھوڑے گاؤں میں داخل ہوتے ہی چاروں طرف سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے پرتجسس چہرے گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکنے لگے۔

جس جس سے آنکھ ملی اس نے مسکرا کر، اپنی آواز بلند کر کے 'گُڈ ایونِنگ میم! گُڈ ایونِنگ سر!' کہہ کر ہمارا استقبال کیا۔

اتنے پر اعتماد بچے! ان کے اس اعتماد اور فر فر انگریزی بولنے کی وجہ حاجی پبلک سکول ہے۔

اس انتہائی دور افتادہ علاقے کے اس انتہائی الگ تھلگ گاؤں کے ان بچوں کی زندگی، جن میں سے لگ بھگ سبھی اپنے اپنے گھروں میں سکول جانے والے پہلے بچے ہیں، اگر یہ سکول نہ ہوتا تو شاید بہت مختلف ہوتی۔

یہ سکول حاجی فاؤنڈیشن نے دو ہزار نو میں صرف 30 سے 32 بچوں کے ساتھ شروع کیا۔

آج یہ سکول تقریباً 500 بچوں کو آٹھویں جماعت تک تعلیم فراہم کرتا ہے۔

حاجی پبلک سکول بریسوانا
Image caption ایک ایسا سکول جہاں بچے گھر جانے کو تیار ہی نہیں ہوتے

بریسوانا کے علاوہ آس پاس کے پندرہ دیہات کے بچے، خطرناک پہاڑی راستے طے کر کے، روز صبح حاجی پبلک سکول آتے ہیں۔

دوسرے گاؤں کے کئی لوگ صرف اس سکول کی وجہ سے بریسوانا آ کر رہنے لگے ہیں، اور کچھ نے اپنے بچوں کو وہاں بھیج دیا ہے، تاکہ وہ حاجی پبلک سکول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

آپ سکول جائیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی بڑے شہر کے نہایت ہی اچھے سکول میں ہیں۔ پھر آپ کو وہاں پہنچنے کے لیے کیا گیا اپنا سفر یاد آتا ہے، تو آپ تھوڑے پریشان ہو جاتے ہیں۔

کشمیر کے اس دور دراز علاقے میں تعلیم کا نظام ویسا نہیں جیسا ہونا چاہیے۔ لیکن حاجی پبلک سکول کے بچوں سے بات کر کے، ان سے مل کر آپ کو یہ احساس بالکل نہیں ہوتا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
حاجی پبلک سکول کی حمیرہ تاریخ دان بننا چاہتی ہیں۔ لیکن شیکسپئیر سے لگاؤ اتنا ہے کہ دل انگریزی ادب کی ہی طرف جھکا ہوا ہے۔

یہاں بچے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ہیری پوٹر، لارڈ آف دی رنگز اور شیکسپئیر پڑھتے ہیں۔ باسکٹ بال، والی بال، ٹیبل ٹینس اور کرکٹ کھیلتے ہیں۔

لڑکے اور لڑکیوں کی ملی جلی ریسیں ہوتی ہیں اور وہ مل کر ورزش کے مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

ویسے تو چھٹی دوپہر تین بجے ہو جاتی ہے، لیکن یہ شاید پہلا سکول ہے جہاں بچے گھر جانے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔

پانچ بجے انہیں لائبریری اور کھیل کے میدان سے یہ کہہ کر زبردستی گھر بھیجنا پڑتا ہے کہ 'دیر ہو گئی ہے، گھر پہنچنے میں ابھی گھنٹہ لگے گا، چلے جاؤ!'

حاجی پبلک سکول بریسوانا تصویر کے کاپی رائٹ SABBAH HAJI
Image caption صباح حاجی، حاجی پبلک سکول کی ڈائریکٹر ہیں

’چناب کی چڑیل!‘ یعنی ڈائریکٹر صباح حاجی

صباح حاجی، حاجی پبلک سکول کی ڈائریکٹر ہیں اور وہاں بچوں کو پڑھاتی بھی ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر خود کو ’چناب کی چڑیل‘ کہتی ہیں!

بریسوانا صباح کے والد سلیم حاجی کا آبائی گاؤں ہے۔ تاہم صباح کی پیدائش اور پرورش دبئی میں ہوئی۔

15 سال کی عمر میں وہ حصولِ تعلیم کے لیے انڈیا کے شہر بنگلور چلی گئیں اور اگلے دس سال وہیں گزارے اور وہیں ایک ادارے میں سینیئر ایڈیٹر کے طور پر کام شروع کر دیا۔

پھر اچانک سنہ 2008 میں وہ نوکری چھوڑ کر واپس ڈوڈا آ گئیں اور وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔

ہوا یہ کہ سنہ 2008 میں کشمیر میں حالات ایک بار پھر کافی خراب ہو گئے تھے۔ امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی پر شروع ہونے والا تنازع بڑھتا گیا اور اس کے خلاف ہونے والے احتجاج میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔

حاجی پبلک سکول بریسوانا تصویر کے کاپی رائٹ SABBAH HAJI
Image caption صباح ٹوئٹر پر خود کو ’چناب کی چُڑیل‘ کہتی ہیں۔ کاش ایسی 'چُڑیل' ہر گاؤں میں ہوتی!

صباح ان دنوں بنگلور میں تھیں اور ان کے والدین کشمیر میں۔ ایک دن ان کے ماموں نے انہیں کشتوار سے فون کیا اور بگڑتے ہوئے حالات کے بارے میں بتایا۔

تب انھیں احساس ہوا کہ وہ اپنے والدین سے بہت دور تھیں جبکہ وہ بظاہر خطرے میں تھے۔

اس واقعے کے بعد صباح نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والدین کے قریب رہنا چاہتی ہیں اور وہ واپس کشمیر آ گئیں۔

سنہ 2008 میں ایک چھوٹا سا سکول کھولنے کی بات ہوئی، اور فیصلہ کیا گیا کہ اپنے ہی آبائی گاؤں میں اسے کھولا جائے اور بس دو ہزار نو میں گاؤں کے چھوٹے بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا سکول کھلا۔

حاجی پبلک سکول بریسوانا
Image caption رضاکار سانو خان کا تعلق کیرالا سے ہے

سکول کے رضاکار

جب صباح نے سکول شروع کیا تو وہ اور ان کی والدہ تسنیم حاجی ہی بچوں کو پڑھاتی تھیں۔

جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے گئے، سکول بڑا ہوتا گیا اور انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اتنے دور افتادہ علاقے میں اچھے اساتذہ ملنا بہت مشکل ہیں۔

مقامی لوگ اتنے پڑھے لکھے تھے نہیں اور شہر سے آکر کوئی بریسوانا جیسے الگ تھلگ گاؤں میں رہنا چاہتا نہیں تھا۔

تب صباح کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ایک رضاکار پروگرام شروع کیا جائے یعنی رضاکاروں کو دعوت دی جائے کہ وہ بریسوانا آ کر رہیں اور بچوں کو پڑھائیں۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس پروگرام کی شروعات مجبوری کے تحت کی گئی تھی، مگر یہی پروگرام اس وقت اس سکول کو منفرد بناتا ہے۔

یہ رضاکار انڈیا کے مختلف شہروں اور دنیا بھر سے آتے ہیں۔ تین سے چھ ماہ تک گاؤں میں رہتے ہیں، بچوں کو پڑھاتے ہیں، ان کے ساتھ کھیلتے ہیں، اور ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یاسر حاجی پبلک سکول میں ساتویں جماعت میں پڑھتے ہیں

دنیا بھر سے آنے والے ان رضاکاروں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر تو مثبت اثر پڑتا ہی ہے ان کے ذہن بھی وسیع ہو گئے ہیں۔

سکول کے بچے

حاجی پبلک سکول میں نرسری سے لے کر آٹھویں جماعت تک بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔

بچے خوش، تمیز دار اور پراعتماد نظر آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ٹِپ ٹِپ انگریزی میں باتیں کرتے ہیں، اور کھیل ہو یا پڑھائی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ہم یاسر سے ملے جو فلسفی بھی ہیں، اور شاعر بھی۔

پریا ڈاکٹر بن کر گاؤں میں ہسپتال کھولنا چاہتی ہیں جبکہ حمیرا نے اب تک یہ طے نہیں کیا کہ وہ تاریخ دان بننا چاہتے ہیں یا انگریزی ادب پڑھانا چاہتی ہیں۔

ان بچوں سے بات کر کے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ان کے خیالات، ان کی خواہشات لاانتہا ہیں، اور جیسا کہ پریا نے کہا، وہ جو چاہے کر سکتے ہیں، جو چاہے بن سکتے ہیں۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں