دارجیلنگ میں پر تشدد مظاہرے جاری، ایک شخص ہلاک

Darjeeling تصویر کے کاپی رائٹ Saibal Das

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے شہر دارجیلنگ میں ہونے والی تشدد کی تازہ وارداتوں کے بعد پولیس فائرنگ میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

گورکھا نیشنل لبریشن فرنٹ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ایک حامی کو گولی مار دی گئی ہے، جو کچھ ادویات خرید اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مظاہرین نے شہر میں آتش زنی کی اور ایک پولیس سٹیشن میں بھی آگ لگا دی۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کی صبح ہونے والے مظاہروں میں ہجوم نے دارجیلنگ کی مقبول کھلونا ٹرین کے ایک اسٹیشن میں بھی آگ لگا دی ہے۔

مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی ہے۔ سنیچر کو پورے دارجیلنگ شہر میں مظاہرے ہوئے۔

پولیس کا دعوی ہے کہ بھیڑ کو قابو کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں۔ اس کے بعد ہی فائرنگ کی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس فائرنگ میں ایک اور شخص کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔ تاہم پولیس نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saibal DAs

صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو ایک بار پھر دارجلنگ بلائے جانے کا امکان ہے۔

وہیں ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں کہ سونادا میں یہ ہلاکت کیسے ہوئی اور اس معاملے میں اگر کوئی مجرم پایا گیا، تو اسے سزا دی جائے گی۔

ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ ’گورکھا جن مکتی مورچہ کے لیڈر تشدد کا راستہ چھوڑ دیں۔ ہڑتال ختم کریں اور کھانے پینے کا سامان دارجلنگ تک پہنچنے دیں۔‘

انھوں نے الزام لگایا ہے کہ دارجیلنگ میں مرکزی سیکورٹی فورسز کی جتنی تعداد مانگی گئی تھی، وہ مرکزی حکومت نے نہیں بھیجی ہیں۔

یاد رہ کہ دارجیلنگ میں ایک مقامی جماعت نیپالی زبان بولنے والی گورکھا کمیونٹی کے لیے الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ مظاہرے مغربی بنگال کی حکومت کی جانب سے ریاست بھر کے سکولوں بشمول دارجیلنگ میں بنگالی کو لازمی مضمون قرار دیے جانے کے بعد شروع ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

دارجیلنگ میں جاری اس ہڑتال نے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے جس سے ہزاروں مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دارجیلنگ میں گذشتہ ماہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا۔ ان پرتشدد مظاہروں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں 30 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

دارجیلنگ کو علحیدہ ریاست بنانے کے لیے سنہ 1980 کی دہائی میں مظاہرے ہوئے تھے جن میں 1,200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت ختم ہوئے جب گورکھا رہنما نے الگ ریاست کے مطالبے کی بجائے خود مختار کونسل پر رضامندی ظاہر کی جس میں علاقے کی خود مختاری کی ضمانت دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/ Getty

اسی بارے میں