’سرحد پار سے کشمیری نوجوانوں کو بھڑکایا جاتا ہے‘

پولیس سربراہ وید
Image caption جموں کشمیر کے پولیس کے سربراہ ایس پی وید کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے اس کے تدارک کے لیے بعض اقدام کیے ہیں

وادی کشمیر بظاہر پر امن نظرآ رہا ہے لیکن عام خیال یہ ہے کہ یہ امن سطحی ہے۔ اندر ہی اندر سکیورٹی اہلکاروں اور علیحدگی پسند طاقتوں کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقعے پر خوف یہ تھا کہ گذشتہ سال کی طرح بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات رونما ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اکا دکا واقع ہی پیش آیا۔

٭ برہان وانی کی برسی، ایل او سی پر فائرنگ میں سات ہلاک

٭ برہان وانی کی برسی پر کشمیر میں کرفیو اور انٹرنیٹ معطل

اس کی بنیادی وجوہات میں گذشتہ کئی ہفتوں سے شدت پسندوں پر سکیورٹی اہلکاروں کے مسلسل حملے شامل ہیں۔ سی آر پی ایف یعنی مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک اعلی افسر اجے کمار کے مطابق گذشتہ ایک ماہ میں دو درجن شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود ایک سال پہلے برہان وانی کے مارے جانے کے بعد کشمیری نوجوان انتہا پسندوں کے ساتھ کیوں شامل ہو رہے ہیں؟

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس کے سربراہ ایس پی وید کے مطابق سرحد پار سے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال دلانے کے سبب کشمیری نوجوان بہک رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'کچھ عناصر ہیں جنھیں سرحد پار سے بھڑکایا جاتا ہے۔'

Image caption کشمیر میں برہان وانی کی ہلاکت کی پہلی برسی پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

ایس پی وید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں واقع کچھ ایجنسیاں وہی حربے استعمال کر رہی ہیں جو نام نہاد دولت اسلامیہ استعمال کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'دولت اسلامیہ کا کشمیر میں اثر نہیں ہے لیکن پڑوس کی کچھ ایجنسیاں ان کے طریقہ کار کا استعمال کر رہی ہیں اور اسی سے مشتعل ہو کر یہ بچے ہتھیار اٹھا رہے ہیں۔

کیا ہندوستانی حکومت کے پاس سرحد پار سے سوشل میڈیا سے بھیجے جانے والے اشتعال انگیز ویڈیو اور میسجز کا کوئی جواب ہے؟

وید کہتے ہیں کہ انتظامیہ اس ضمن میں بعض ٹھوس اقدام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کشیدگی کے وقت انٹرنیٹ کی سہولیات بند کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے اکسانے کی کوششوں کو روکا جائے۔

ریاستی پولیس کے سربراہ نے ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی بات کہی جو اس پروپگینڈے کو وادی میں فروغ دیتے ہیں یا جو اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی کے مقابلے میں آج کشمیر میں انتہا پسندی میں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں آئی ہیں۔ اس زمانے میں پاکستان کشمیر کے شدت پسندوں کی کھل کر مدد کرتا تھا۔ 'لیکن آج وہ ایجنسیوں کے ذریعے اور دوسرے اداروں کے ذریعے ایسا کرتا ہے جنھیں نان سٹیٹ ایکٹر کہتے ہیں۔ لیکن سب کچھ وہیں سے ہوتا ہے۔

پاکستان شدت پسندوں کی براہ راست مدد سے انکار کرتا ہے۔ مگر پاکستان کشمیر کی تحریک کی حمایت کو قبول ضرور کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن کا استعمال متنازع ہے

بہت سے ممالک میں شدت پسندوں کو انتہا پسندی کے راستے سے ہٹا کر معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جن میں برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔ کیا کشمیر میں ایسا کوئی پروگرام شروع کیا گیا ہے؟

پولیس کے سربراہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہونا چاہیے ویسا نہیں ہو رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'جس لیول یعنی سرکاری سطح پر ایسا ہونا چاہیے میں سمجھتا ہوں ابھی ویسا یہاں نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ این جی اوز سرگرم ہیں۔ کچھ سرکاری ادارے کر رہے ہیں، لیکن جس سطح کا ہونا چاہیے تسلی بخش طور پر ویسا نہیں ہے۔'

Image caption کشمیر میں دیواروں پر آزادی کے حق میں نعرے لکھے نظر آتے ہیں

ایس پی وید کہتے ہیں کہ اگر شدت پسند نوجوان شدت پسندی کا راستہ چھوڑ دیں اور مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو وہ ان کا استقبال کریں گے۔

لیکن نوجوان شدت پسند اور ان کے حامی اس تجویز کو نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال برہان کی موت کے بعد بھڑکنے والے پرتشدد واقعات میں سکیورٹی فورسز نے معصوم شہریوں کا قتل کیا ہے اور وہ اس زیادتی کو بھول نہیں سکتے ہیں۔

سنیچر کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ علاقے میں مشتعل بھیڑ نے سکیورٹی پر پتھر کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ انھوں نے ’کشمیر کی آزادی‘ کی جنگ جاری رکھنے پر پورا زور لگانے کی باتیں کہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں