انڈین میڈیکل ویزا سرتاج کی سفارش سے مشروط

شسما تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ انڈیا صرف انھی پاکستانی شہریوں کو ہی علاج کے لیے ویزے جاری کرے گا جن کے نام پاکستانی وزیرِاعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے تجویز کیے جائیں گے۔

پیر کو سماجی روابط کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں انڈین وزیر نے کہا کہ انھیں انڈیا میں علاج کروانے کے خواہاں تمام پاکستانی شہریوں سے ہمدردی ہے۔

’پاکستانی سہیلی کے بغیر شادی نہیں‘

’ایسا لگ رہا ہے ویزا نہیں، جنت کا ٹکٹ مل گیا ہو‘

پاکستانی کی معافی سے دس انڈیئنز کی زندگی بچ سکتی ہے

سشما سوراج نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ سرتاج عزیز بھی اپنے ملک کے شہریوں کے بارے میں غور کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستانی شہریوں کو میڈیکل ویزوں کے اجرا کے لیے ہماری شرط صرف ان (سرتاج عزیز) کی جانب سے سفارش کی ہے۔'

انڈین وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی جو سرتاج عزیز کو اپنے ملک کے شہریوں کے لیے ایسی سفارش کرنے سے روک سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اپنے پیغامات میں سشما سوراج نے پاکستان میں جاسوسی کے جرم میں سزائے موت پانے والے انڈین شہری کلبھوشن جادھو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی والدہ اونتیکا جادھو نے بھی پاکستان میں قید اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے ویزے کی درخواست دی ہوئی ہے لیکن پاکستانی حکام اس پر فیصلہ نہیں کر رہے۔

انڈین وزیر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ذاتی طور پر بھی سرتاج عزیز کو خط لکھ کر اونتیکا جادھو کو ویزا دینے کی درخواست کی لیکن سرتاج عزیز نے اس کا جواب تک نہیں دیا۔

سشما سوراج کے مطابق اس کے باوجود وہ پاکستانی شہریوں کو یقین دلانا چاہتی ہیں کہ اگر ان کی میڈیکل ویزے کی درخواست کے ساتھ سرتاج عزیز کا سفارشی خط منسلک ہو گا تو انھیں فوری طور پر ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہریوں کو ویزوں کے اجرا کے عمل میں سختی دکھائی ہے جن کی وجہ سے شہریوں خصوصاً علاج کے لیے انڈیا کا رخ کرنے والے افراد کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں