’کشمیری نوجوانوں اور سکیورٹی اہلکاروں، دونوں کے مرنے کا درد ہوتا ہے‘

Image caption مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں حنا بی جے پی کی ایک لیڈر ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو نظریاتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا چہرہ ایک مسلمان خاتون حنا بٹ ہیں۔

کچھ وقت پہلے تک اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا بلکہ وادی کشمیر میں تو اس پارٹی کا وجود تک نہیں تھا۔ لیکن آج یہ ایک حقیقت ہے۔

’جہاں قاتل ہی منصف ہیں‘

’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی نہ کریں‘

حنا بٹ کے مطابق وادی میں بی جے پی کے تین لاکھ فعال کارکن ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'آج لال چوک میں بی جے پی کا پرچم ہے۔ جب بھی ہم ریلی نکالتے ہیں تو پارٹی کا جھنڈا لگاتے ہیں۔'

مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں سری نگر سے 2015 کے اسمبلی انتخابات لڑنے والی وہ تین مسلم خواتین میں سے ایک تھیں۔

سرینگر سے انتخابات میں پارٹی نے 14 امیدوار کھڑے کیے تھے۔ وہ کہتی ہیں 'ہماری ہار میں بھی ہماری جیت تھی کیونکہ کانگریس نے یہاں اقتدار میں ہونے کے باوجود سرینگر سے کبھی بھی 14 امیدوار نہیں کھڑے کیے تھے۔'

ان کے والد محمد شفیع بٹ سیاسی رہنما اور وزیر تھے لیکن ان کا تعلق نیشنل کانفرنس سے تھا۔ تو بیٹی نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟

وہ کہتی ہیں کہ سیاست میں داخل ہونے کے لیے ان کے والد نے حوصلہ افزائی کی تھی اور بی جے پی میں شامل ہونے میں پارٹی کے قوم پرست نظریات نے انھیں اپنی طرف متوجہ کیا۔

لیکن یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ 'ایک مشکل یہ تھی خاتوں ہوں اور دوسری مشکل وادی میں پارٹی کو اچھوت سمجھا جانا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ان کے مطابق انھوں نے ان مشکلات کو برداشت کیا۔

یوں تو ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی خود ایک خاتون ہیں۔ لیکن وادی کے روایتی مسلم معاشرے میں خواتین کے لیے سیاست میں آنا کتنا مشکل ہے؟

حنا کا کہنا ہے کہ وادی میں مسلم خواتین کو سیاست میں شامل ہونا چاہیے 'وہ جس طرح گھر بنا سکتی ہیں اسی طرح سے ملک بھی بنا سکتی ہیں۔'

34 سالہ حنا سری نگر کے گنجان آبادی والے علاقے میں رہتی ہیں جہاں سے علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کا دفتر زیادہ دور نہیں ہے۔

ان کے گھر میں سکیورٹی ضرور ہے لیکن وہ اپنے لوگوں کے درمیان رہتی ہیں۔

کشمیر میں جاری تشدد اور مسلم نوجوانوں کی اموات کے بارے میں وہ عوام کو کیسے سمجھاتی ہیں؟

'میں بھی کشمیر کی بیٹی ہوں۔ مجھے بھی ان کے مرنے کا درد ہوتا ہے۔'

لیکن حنا کہتی ہیں جان کشمیری نوجوانوں کی بھی جاتی ہے اور سیکورٹی اہلکاروں کی بھی۔ انہیں درد دونوں کے مرنے کا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پتھر پھینکنے والے نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ حریت کے لیڈروں کو اس کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔ مگر وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی ہوتی ہیں۔

ان کی پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار میں شریک ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان کافی کشیدگی رہتی ہے جس کی وجہ سے سیاسی ماحول اکثر گرم رہتا ہے۔

حنا کہتی ہیں کہ نظریے کے مطابق دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں تو کھٹ پٹ لازمی ہے، لیکن ان کے خیال میں ایسا سبھی پارٹنرز کے درمیان ہوتا ہے۔

حنا کہتی ہیں کہ ان کی حکومت کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'جلد ہی کشمیر میں امن ہو جائے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں