کشمیر: امرناتھ یاترا پر شدت پسند حملے میں سات ہلاک

انڈیا، کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے زیرِ انتظام کمشیر کے ضلع اننت ناگ میں ہونے والے ایک مسلح حملے میں چھ خواتین سمیت سات ہندو یاتری ہلاک اور 19 زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ ضلع اننت ناگ کے بوٹینگو علاقے میں پیر کی رات 8 بج کر 20 منٹ پر ہوا۔

پولیس ترجمان منوج پنڈتا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ پولیس کے ایک گشتی دستے پر کیا گیا، تاہم پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں امرناتھ یاتریوں کی ایک گاڑی اس کی زد میں آ گئی۔

کشمیر میں فوجی قافلے پر مسلح حملہ

کشمیر: فوجی کیمپ پر حملہ،ایک افسر سمیت تین فوجی اہلکار ہلاک

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملہ، تین ہلاک

واضح رہے جنوبی کشمیر کے پہلگام علاقے میں پہاڑی گھپا میں بھگوان شو سے منسوب برفانی عکس 'شو لنگ' کے درشن کی خاطر ہر سال لاکھوں انڈین عقیدت مند کشمیر آتے ہیں اور ان کی یاترا کے لیے ریاستی گورنر کی سربراہی والا امرناتھ شرائن بورڈ سیکورٹی اور دوسرے انتظامات کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ چند دن قبل بعض خفیہ اطلاعات کے بعد انڈین فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس حملے کے بیشتر متاثرین کا تعلق انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات سے ہے۔

حملے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور ان کے نائب نرمل سنگھ اننت ناگ پہنچے جہاں انھوں نے زخمی یاتریوں کی عیادت کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا 'یہ حملہ کشمیر کی ثقافتی میراث کے منافی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری فورسز حملہ آوروں کو بے نقاب کر کے انھیں قانونی شکنجے میں لائیں گی۔'

اس دوران ہند مخالف علیحدگی پسند اتحاد کے رہنماوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے ایک مشترکہ بیان میں اس حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا 'یہ قتل عام جس نے بھی کیا اس نے دہشت گردی کا بدترین جرم کیا ہے کیونکہ عام انسانوں کا قتل آزادی کی جدوجہد اور اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔'

ادھر کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے بھی ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

اس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر انڈین شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 'دہشت گردوں کے اڈوں کا خاتمہ کیا جائے۔‘ تاہم کشمیر میں اس حملے کے بعد انٹرنیٹ کی سہولت کو معطل کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں