کشمیر: امرناتھ زائرین پر حملے کی مذمت میں علیحدگی پسند بھی شامل

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2000 میں حملہ آوروں نے ہندو زائرین پر گولیاں برسائی تھیں جن میں دو پولیس اہلکار سمیت 32 افراد ہلاک ہوئے تھے

پیر کی شام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں مسلح حملے میں چھ خواتین سمیت سات ہندو یاتریوں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی اداروں اور پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔

اس دوران پولیس نے اننت ناگ کے علاقے بوٹینگو سے چھ افراد کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔ تاہم جہاں علیحدگی پسندوں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کر کے 'اس کی تہہ تک جانے کے لیے' تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، وہیں سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں اور دوسرے سماجی حلقوں نے منگل کو دن بھر لال چوک میں مظاہرے کیے۔

٭ کشمیر: امرناتھ یاترا پر شدت پسند حملے میں سات ہلاک

٭ ’کشمیری فوجی آپریشن کی راہ میں حائل ہیں ‘

گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش راج بھون میں بھی اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت بھارت کے نائب وزیر داخلہ نے کی۔

اُدھر ہندو اکثریتی جموں میں تاجروں کی کال پر ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر ان ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق سرینگر میں کشمیری بولنے والے ہندو باشندوں کی انجمن کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی نے بدھ کو وادی میں ہڑتال کی تجویز پیش کر کے علیحدگی پسند اور ہند نواز گروپوں سے ہڑتال کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے یقین دلایا ہے کہ اس حملے میں ملوث افراد کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption غاروں تک پہنچنے کے لیے پیدل اور خچروں پر سفر کرنا پڑتا ہے

پولیس کے صوبائی سربراہ منیر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی عسکریت پسند اسماعیل کا ہاتھ ہے۔ تاہم لشکر طیبہ کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے ایک بیان میں اس واقعے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

پاکستان میں کئی عسکری تنظیموں کے اتحاد جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی اپیل کی ہے۔

اپوزیشن کے رہنما فاروق عبداللہ نے اس حملہ کو 'فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی کوشش' قرار دیا اور کہا 'اس وقت پورا ملک فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہا ہے۔ یاتری صدیوں سے آتے ہیں اور آتے رہیں گے، کیونکہ اس وطن میں مذہب کی آزادی اب بھی ہے۔'

اس دوران جنوبی کشمیر کے پہلگام اور مشرقی کشمیر کے بال تل مقامات سے بدھ کو بھی یاتریوں نے پہاڑی پر واقع بھگوان شو سے منسوب برفانی عکس کے درشن کیے۔

حکومت اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ حملے کی زد میں آنے والی بس شرائن بورڈ میں رجسٹر کیوں نہیں تھی، اور یہ بس سات بجے کے مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد بھی اس شاہراہ پر کیوں جارہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حملے کی مذمت کی ہے

یہ سنہ 2000 کے بعد ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس وقت بندوق برداروں نے ہندو زائرین پر گولیاں برسائی تھیں جن میں دو پولیس اہلکار سمیت 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہندو زائرین کشمیر میں امرناتھ کے غاروں کی زیارت کے لیے آتے ہیں جہاں تقریباً چار ہزار میٹر کی بلندی پر برف سے ایک برہنہ مرد کی شبیہ بنتی ہے جسے وہ اپنے دیوتا شو کا عضو سمجھ کر پوجتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ برف کی اس شبیہ کو ایک مسلم چرواہے نے سنہ 1850 میں دریافت کیا تھا جو کہ دو ہندو پجاریوں کے ساتھ اس زیارت گاہ کا متولی بنا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں