دنیا کا چکر لگانے کی مہم پر کم عمر ترین خاتون

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 29 سالہ شائستہ وائض افغانستان سے تعلق رکھنے والے پہلی غیر عسکری تربیت یافتہ خاتون پائلٹ ہیں

پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والی ایک افغان خاتون بطور پائلٹ ایک طیارے میں دنیا کے چکر لگا رہی ہیں تاکہ دیگر خواتین کو اپنے خوابوں کی تعبیر کرنے کی کوشش کا حوصلہ ملے۔

29 سالہ شائستہ واعظ افغانستان سے تعلق رکھنے والے پہلی غیر عسکری تربیت یافتہ خاتون پائلٹ ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ اکیلے دنیا کا چکر لگانے والی کم عمر ترین خاتون پائلٹ بن جائیں۔

انھوں اپنا یہ تاریخی سفر امریکہ سے ایک چھوٹے طیارے میں شروع کیا ہے اور حال ہی میں وہ کابل پہنچی ہیں۔

شائستہ واعظ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیدائش کے ملک پہنچنے کے بارے میں بہت خوش ہیں۔

’تقریباً 29 سال ہوگئے ہیں۔ اس ملک بطور ایک پائلٹ واپس آنا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔‘

شائستہ واعظ افغانستان میں ایک پناہ گزین کیمپ میں 1987 میں پیدا ہوئیں اور ان کا خاندان سویت افغان جنگ سے بچنے کے لیے امریکہ منتقل ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انھوں اپنا یہ تاریخی سفر امریکہ سے ایک چھوٹے طیارے میں شروع کیا ہے اور حال ہی میں وہ کابل پہنچی ہیں۔

شائستہ واعظ نے ریاست کیلیفورنیا کے شہر رچمنڈ کے ایک پسماندہ علاقے میں پرورش پائی اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ ہوا بازی سے متعارف نہیں ہوئی تھی انھوں نے کالج جانے یا کیریئر کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔

’جب میں ایک چھوٹی بچی تھی تو میں سوچی تھی کہ شاید ہی میں کالج جاؤں۔ میرا خیال تھا کہ میری کم عمر میں شادی ہوجائے گی اور میں فیملی بناؤں گی۔ مگر میں نے ہوابازی دریافت کی اور مجھے اس سے پیار ہوگیا۔‘

اپنے طیارے کا خود پائلٹ ہونا ایک بہترین احساس ہے۔‘

انھوں نے ایک غیر سرکاری تنظیم ڈریمز سوئر بنائی ہے جس کا مقصد خواتین میں ہوا بازی کے شوق کو مقبول کرنا اور بچیوں میں سائنس اور ریاضی جیسے مضامین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اپنے خاندان میں کالج جانے والی وہ پہلی فرد ہیں۔

اسی بارے میں