انڈین سپریم کورٹ نے گاؤ کشی پر پابندی کا مجوزہ قانون معطل کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں بیف کی تجارت پر پابندی کے مجوزہ قانون کو معطل کر دیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ وہ اس قانون کے ذریعے ملک میں بیف کی غیر قانونی کاروبار کو روکنا چاہتی ہے۔

گجرات میں نیا قانون، گئوکشی کی سزا عمر قید

اترپردیش میں مذبح خانے بند ہونا شروع

اس آرڈر کے تحت گائے کے ذبح کرنے پر پابندی کے علاوہ بھینسوں اور اونٹوں کی تجارت کو بھی روکنا مقصود تھا۔

سپریم کورٹ کے جج نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ قانون ملک میں گوشت اور چمڑے کی صنعت کو متاثر کرے گا جس سے لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوگا۔

تامل ناڈو کی ہائی کورٹ پہلے ہی اس قانون کو معطل کرنے کا حکم جاری کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے تامل ناڈو ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا کہ یہ عدالتی حکم پورے ملک میں نافذ العمل ہوگا۔

امید کی جا رہی ہے کہ حکومت اب اس مجوزہ قانون میں ترمیم کر کے اسے چند ماہ میں دوبارہ قانون کی شکل دینے کی کوشش کرے گی۔

بھارت کی کئی ریاستیں ملک میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کی خلاف ہیں۔

بھارت میں زیادہ تر بیف بھینسوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور بھارت دنیا کا سب بڑا بیف ایکسپورٹر ہے۔ انڈیا سالانہ چار ارب ڈالر کی مالیت کا بیف ایکسپورٹ کرتا ہے۔

انڈیا کے چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ حکومتی فیصلے سے لوگوں کے روزگار پر ضرب نہیں لگنی چاہیے۔

انڈیا میں گوشت کے کاروبار سے جڑی ہوئی تنظیم آل انڈیا جمیعت القریش کے سربراہ عبد الفہیم قریشی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے لوگوں کی فتح قرار دیا ہے۔

انڈیا میں بی جے پی کی حکومت کے آنے کے بعد کئی ریاستوں میں بیف کے کاروبار کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ریاست گجرات میں رواں برس مارچ میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کے تحت بیف کے کاروبار پر عمر قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں