’مذہب تبدیل کرنے سے گھر والے تکلیف میں ہیں‘

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHANDILYA
Image caption انور عرف آنند نے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ چار جولائی کو ہندو مذہب قبول کیا۔

انڈین شہر بیگو سرائے کے محمد انور اب آنند بھارتی بن گئے ہیں اور اب ان کے دو بیٹوں کے نام بھی امن اور سمن بھارتی ہو گئے ہیں۔ پہلے امن کا نام عامر اور سمن کا سمیر سبحانی تھا۔

انور عرف آنند نے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ چار جولائی کو ہندو مذہب قبول کیا۔ آنند پیشے کے وکیل ہیں اور مذہب تبدیل کرنے کا حلف نامہ انھوں نے عدالت میں بھی جمع کروا دیا ہے۔

انور عرف آنند کے مطابق انہوں نے مذہب اپنے آس پاس کے قدامت پسند مسلمانوں سے پریشان ہوکر تبدیل کیا ہے۔

٭ انڈیا میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا

٭ مسلمان کشمیری پنڈت کون ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے بچوں کو مدرسے بھیجنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ میں عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کے ساتھ ساتھ ہولی اور دیوالی جیسے تہواروں میں بھی شامل ہوتا تھا۔ اگر میں میت پر مٹی ڈالتا تھا تو ہندو رسومات میں بھی شامل ہوتا تھا۔ اس وجہ سے مجھے طرح طرح سے پریشان کیا جاتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHANDILYA
Image caption مناظر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آنند کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

مسلم اکثریتی علاقہ

آنند نے مزید بتایا کہ ’میرے ساتھ ایسا گذشتہ آٹھ ماہ سے ہو رہا تھا، میں شروع سے ہی بیف نہیں کھاتا، اس سے انکار کرنے پر بھی میرے ساتھ زیادتی کی گئی۔ میرے گھر کے سامنے بیف کی ہڈیاں مسلسل پھینکی جاتی رہیں، میں نے اپنی شکایت مسلمان دانشوروں کے سامنے کھی لیکن انھوں نے بھی اپنے لوگوں کا دفاع کیا اور مجھے انصاف نہیں دلایا۔‘

بیگو سرائے میں آنند بھارتی کا اپنا مکان ہے۔ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے جہاں آنند بھارتی کو سب سے زیادہ شکایت اپنے پڑوسی مناظر حسین اور ان کے خاندان سے ہے۔

تاہم مناظر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آنند کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگوں نے انھیں بچوں کو مدرسے میں پڑھانے کے لیے کبھی نہیں کہا۔ نماز نہ پڑھنے کے سوال پر بھی ہم نے انھیں کبھی نہیں ٹوکا۔ وہ خود ہی ہر بات پر ارد گرد کے لوگوں سے جھگڑتے رہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TUSHAR RANJAN
Image caption محمد انور نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ گھر واپسی کی تقریب میں شرکت کی۔

طہارت کے بعد 'گھر واپسی'

مناظر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آنند تقریباً ایک سال سے کہہ رہے تھے کہ وہ مذہب تبدیل کر لیں گے۔

لیکن آنند بھارتی اس بات سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’میں دونوں مذاہب کی خصوصیات کا مطالعہ کر رہا تھا۔ دو جولائی کو میرے گھر پر آکر لوگوں نے مجھے دھمکیاں دیں جس کے بعد میں نے ہندو مذہب اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔‘

آنند کے مطابق نہ تو وہ ہندو تنظیم سے منسلک رہے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دو جولائی کے واقعے کے بعد میرے کچھ ہندو ساتھیوں نے بتایا کہ بجرنگ دل قومی مفاد میں بچھڑے بھائیوں کے ایک ہونے کی مہم چلا رہا ہے اور اس سے متفق ہو کر میں نے خود بجرنگ دل کے ضلعی کنوینر شبھم بھاردواج کے سامنے ہندو مذہب قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی۔‘

اس کے بعد شہر کے بشنپر علاقے کے ایک شیو مندر میں چار جولائی کو طہارت کے بعد محمد انور اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ہندو ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شبھم کے مطابق انور کے آنند بننے کے بعد انھیں اور آنند کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ہندو ثقافت

آنند اپنے محلے میں جس جگہ مجھ سے ملے وہاں ان کے ساتھ شبھم بھاردواج بھی تھے۔ بات چیت کے دوران شبھم بھی ان کے گھر پر موجود رہے۔

انھوں نے بتایا ’وہ لوگ جو مذہب تبدیل کرنا چاہتے ہیں ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔ کٹر اسلام سے پریشان لوگ ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔ محمد انور نے بھی دو جولائی کو ہم سے مدد مانگی۔ پھر تین جولائی کو ہمارے دفتر آکر انھوں نے ہندو ثقافت قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے اگلے دن ایک ہوون رکھا گیا اور ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔‘

شبھم کے مطابق انور کے آنند بننے کے بعد انھیں اور آنند کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ان سے خود نمٹ سکتے ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ انور عرف آنند کے فیصلے پر قانون کیا کہتا ہے؟

پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ستیہ ویر بھارتی بتاتے ہیں کہ ’بھارت کے شہریوں کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ آئین کی شق نمبر 25 شہریوں کے اس حق کی حفاظت کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHANDILYA
Image caption اسلام سے ہندو مذہب قبول کرنے کے باوجود آنند کہتے ہیں کہ انھیں اسلام سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

اسلام سے شکایت نہیں ...

اسلام سے ہندو مذہب قبول کرنے کے باوجود آنند کہتے ہیں کہ انھیں اسلام سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ انھیں اس مذہب کے ٹھیکیداروں سے پریشانی ہے۔ وہ تین طلاق، جائیداد میں حق جیسے مسائل کے حوالے سے اسلام میں بہتری کی بات ضرور کرتے ہیں۔

آنند کہتے ہیں ’اسلام میں ذات پات کا نظام نہیں تھا لیکن آج انڈیا میں یہ برائی اسلام میں موجود ہے۔‘

ذات پر مبنی امتیاز اور ہراساں کرنے کا تو ہندو مذہب میں بھی تصور پایا جاتا ہے، وہاں آپ کو اس سے کس طرح نجات ملے گی؟

اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی طرف سے ہندو مذہب میں مساوات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ 'برہمن ہو یا پاسوان، ہندو ہندو ایک اسی‘ کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہندو مذہب سے امید ہے۔‘

آنند اپنی پوری بات چیت میں رہ رہ کر جن الفاظ اور دلائل کا استعمال کرتے ہیں اس پر کچھ ایسی ہندو تنظیموں کا تاثر دکھائی دیا جو مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں اور انھیں دہشت گردوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

جیسا کہ وہ کہتے ہیں ’میں قومی مفاد میں ہندو بنا ہوں۔ قومی مفاد میں یہ ضروری ہے کہ ملک میں صرف ایک مذہب سناتن دھرم ہو۔ اسلام میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHANDILYA
Image caption بطور ہندو ان کے گھر اور زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے۔

گھر لائے ہنومان چاليسا

بطور ہندو ان کے گھر اور زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے۔ انھوں نے بتایا: ’گھر میں ہنومان چاليسا لے آئے ہیں۔ گنگا کے کنارے واقع سمريا دھام جاکر عبادت بھی کی۔ غسل کے بعد اور سونے کے وقت خدا کو یاد کرتے ہیں۔‘

ہندو بننے کے بعد کیا انھیں پریشان بھی کیا جا رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں آنند نے بتایا کہ ’گذشتہ جمعے کو انھیں مسلمان نوجوانوں کے ایک گروپ نے دھمکایا تھا۔ اس کی تحریری شکایت پر پولیس نے مجھے ایک مسلحہ گارڈ مہیا کیا ہے۔‘

بیگو سرائے کے سینئیر وکیل مظہرالحق پوكھريا اِسی علاقے میں ہی رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آنند کا ہندو مذہب کی طرف جھکاؤ پہلے بھی موجود تھا۔

وہ کہتے ہیں ’جہاں تک مجھے معلومات ہیں، ان کی موٹر سائیکل پر اوم بھی لکھا ہوا ہے اور وہ روزہ، نماز نہیں کرتے تھے۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا اور اس سے کسی کو پریشانی نہیں تھی۔‘

لیکن وہ بھی اس سے انکار کرتے ہیں کہ آنند پر اپنے بچوں کو مدرسے میں پڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اسے وہ مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہر کی مسلم آبادی میں اب گنے چنے لوگ ہی بچوں کو مدرسے بھیجتے ہیں۔

مظہرالحق کے مطابق مسلم معاشرہ آنند کے اس فیصلے پر توہین ضرور محسوس کر رہا ہے لیکن لوگ نہ تو کوئی رائے دے رہے ہیں اور نہ دینا چاہتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے ہیں۔ ان حالات سے بچنے کے لیے مسلمانوں نے باہمی بات چیت سے طے کیا ہے کہ اس مسئلے کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اسے خود بخود ختم ہونے دیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'کچھ لوگ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے ہیں‘

گھر والے ناراض

آنند بھارتی کے مطابق انھوں نے مذہب تبدیل کرنے سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں سے صلاح و مشورہ نہیں کیا تھا۔ ’مذہب تبدیل کرنے سے گھر والے تکلیف میں ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اب میں ان سے بچھڑ گیا ہوں۔‘

پوكھريا علاقے میں ہی ان کے والد اور سوتیلی ماں کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کی ماں کہتی ہیں ’ہم تو شرم سے ڈوبے جا رہے ہیں۔ وہ (انور) جیے یا مرے، ہمیں اس سے اب کوئی مطلب نہیں ہے۔‘

آنند کی سوتیلی ماں اس واقعے سے اتنی پریشانی ہیں کہ بار بار پوچھے جانے پر بھی انھوں نے اپنا نام نہیں بتایا۔ دوسری طرف آنند نے اپنی اہلیہ شبنم ستارہ کی بھی بی بی سی سے بات نہیں کروائی۔

ان کے مطابق تبدیلی مذہب کے بعد کے واقعات سے وہ پریشان ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اس بات پر بار بار زور دیا کہ مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ انھوں نے اپنی بیوی کی رضامندی سے کیا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شبنم نہ تو مذہب تبدیل کرنے کے لیے مندر گئیں، نہ ہی انھوں نے ابھی تک اپنا نام اب تک تبدیل کیا ہے۔ بیوی کے نام نہیں بدلے جانے کے سوال پر آنند کہتے ہیں ’ان کا نام ایسا ہے جو ہندو مسلمان سب رکھتے ہیں، اس لیے انھوں نے نام نہیں بدلا۔‘

چار جولائی کے بعد ان کے بچوں نے پیر کو دوبارہ سکول جانا شروع کر دیا ہے۔ وہ شہر کے ایک نجی انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں