'چین انڈیا کو شکست نہیں دے سکتا'

چین انڈیا، فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں ملکوں میں تعطل برقرار ہے

انڈیا اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے سے کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ چین کی حکومت اور ذرائع ابلاغ دونوں ہی سخت اور جارحانہ لب و لہجے میں بات کر رہے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں انڈيا اور چین کی سرحد پر اس طرح کی کشیدگی نہیں پیدا ہوئی۔

یہ تنازع گذشتہ ماہ سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلالم خطے سے شروع ہوا۔ چینی فوجی یہاں سڑک تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ انڈین فوجیوں نے بھوٹان کی درخواست پر چینی فوجیوں کو وہاں کام کرنے سے روک دیا ہے۔ چین نے انتہائی سخت لہجے میں انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی بقول اس کے چین کے خطے سے واپس بلائے۔

صورتحال کافی گمبھیر ہے۔ وویکا نند فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار سوشانت سرین کہتے ہیں کہ انڈیا کے پاس اس معاملے میں دخل دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ملکوں کی سرحد پر گذشتہ 50 برس میں کبھی کوئی بڑا ٹکراؤ نہیں ہوا لیکن اب یہ صورت حال بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے

ان کے مطابق: 'چین کے ساتھ انڈیا کا ابھی تک بڑا نرم رویہ رہا ہے۔ اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ اگر آپ اپنے سب سے قریبی اتحادی ملک کے اقتدار اعلیٰ کا دفاع نہیں کر سکتے تو پھر کل آپ کی اپنی زمین بھی خطرے میں آ جائے گی۔'

چین کی جانب سے جو جارحانہ لب و لہجہ ہے اختیار کیا گيا ہے وہ کئی عشروں میں نہیں دیکھا گيا ہے۔ سوشانت سرین کا خیال ہے کہ اس بار صورتحال کافی سنگین اور کشیدہ ہے۔

ان کا کہنا ہے: 'چین کی جانب سے جس طرح کے پیغامات اور بیانات آ رہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ حالات یونہی بگڑتے رہے تو یہ تصادم میں بدل سکتا ہے اور سرحد پر ٹکراؤ بھی ہو سکتا ہے۔'

انڈیا اور چین کے درمیان تقریباً چار ہزار کلو میٹر لمبی سرحد پر تنازع پرانا ہے اور 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔ گذشتہ پانچ دہائیوں میں ایک دو واقعات چھوڑ کر سرحد پر صورت حال پر امن رہی ہے۔ لیکن ڈوکلام کے واقعے کے بعد چین کا رد عمل بہت جارحانہ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption سکم کی سرحد پر تعینات انڈین فوجی

دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ یہ تلخی اچانک نہیں پیدا ہوئی ہے۔ 'پچھلے کچھ عرصے سے نیوکلیئر سپلائیر گروپ میں انڈیا کی شمولیت کی مخالفت، مسعود اظہر کو بین القوامی دہشت گرد قرار دینے اور چین کے اقتصادی منصوبے جیسے سوالات پر اختلافات بڑھتے گئے ہیں۔ ڈوکلام نے براہ راست ٹکراؤ کا ماحول بنا دیا ہے۔

اجے شکلا کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں میں جنگ کے امکانات نہیں ہیں۔ 'چین بین القوامی سطح پر ایک بڑے اقتصادی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ وہ جنگ تبھی چاہے گا جب مکمل طور پر اس کی جیت ہو۔ وہ بھارت سے اب پوری طرح نہیں جیت سکے گا۔ عسکری اعتبار سے بھارت اب 1962 کے مقابلے میں کافی پختہ، تجربہ کار اور طاقتور ہے۔ چین اس حقیقت کو جانتا ہے کہ وہ انڈیا کو شکست نہیں دے سکتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption سکم کی سرحد پر تعینات انڈین فوجی

دونوں ملکوں میں تعطل برقرار ہے۔

انڈیا نے غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کیا ہے۔ لیکن چین کی جانب سے روزانہ بیانات آ رہے ہیں۔

جواہر لال یونیورسٹی کی چینی امور کی پروفیسر الکا آچاریہ کہتی ہیں: 'یہ تنازع بھوٹان کا ہے۔ انڈین فوجی بھوٹان میں ہیں۔ بھارت بھوٹان ہی کے راستے سے اس تنازعے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔'

ڈاکٹر الکا کا خیال ہے موجودہ صورت حال کافی گمبھیر ہے۔ دونوں ممالک ابھی تک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ موجودہ تعطل توڑنے کے لیے کسی ایک کو پیچھے ہٹنا ہو گا لیکن فی الحال اس کے آثار نظر نہیں آتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں