چین کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی

چينی صدر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورت حال اتنی کشیدہ ہے کہ اب بین القوامی برادری کی توجہ اس کی طرف مبذول ہونے لگی ہے

انڈیا اور چین کے درمیان کشدیگی کے ماحول میں چین نے کہا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے 'اپنا تعمیری کردار' ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورت حال اتنی کشیدہ ہے کہ اب بین الاقوامی برادری کی توجہ اس کی طرف مبذول ہونے لگی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے سوال پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ 'کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان جس طرح کا ٹکراؤ ہو رہا ہے اس نے صرف دونوں ملکوں کا امن و استحکام خطرے میں پڑے گا، بلکہ یہ کشیدگی پورے خطے پر اثر انداز ہوگی۔'

شوانگ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں لیکن کشمیر کے کشیدہ حالات کے سبب اب اس تنازع کی طرف سبھی کی توجہ مبذول ہورہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایسے اقدامات کریں گے جن سے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔

ترجمان نے کہا: 'چین انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔'

چین کی طرف سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈیا اور چین کے فوجی سکّم کی سرحد کے نزیدک ڈوکلام خطے میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔

دو روز قبل چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ جس طرح بھارت کے فوجی ڈوکلام کے متنازع علاقے میں بھوٹان کی درخواست پر داخل ہوئے ہیں اسی دلیل کی بنیاد پر تیسرے ملک کی فوج پاکستان کی درخواست پر کشمیر میں داخل ہوسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تیسرے ملک سے ان کی مراد چین سے تھی۔

انڈیا کی طرف سے چین کے اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گيا ہے اور میڈیا بھی اس معاملے میں پوری طرح سے خاموش ہے۔

چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ مہینے سے اس وقت سے زبردست کشیدگی کا ماحول جب بھارتی فوجی سکّم کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلام علاقے میں داخل ہوگئے اور وہاں چینی فوجیوں کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ اس ٹکراؤ کے بعد دونوں ملکوں کے فوجی آمنے سامنے ہیں اور تعطل برقرار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں