ایرانی زائرین سعودی پولیس سے بحث کرنے سے گریز کریں: ایرانی حکام

مسجد حرام کے درمیان کعبہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption قطر کے ایک اخبار نے ذرائع سے یہ خبر شائع کی ہے کہ قطر کے کچھ لوگوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے

ایران کے حکام نے ایرانی زائرین سے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب میں قیام کے دوران سعودی پولیس سے کسی قسم کی بحث و مباحثےسے گریز کریں۔

ایران میں حج اور زائرین کی سکیورٹی سے متعلق ادارے کے سربراہ قاسم ناصری کا کہنا تھا ’زائرین کو جنت البقیع کے دورے کے دوران سعودی پولیس سے کسی قسم کے مباحثے میں نہیں الجھنا چاہیے کیونکہ شدت پسند اس موقعے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘

* ’قطر کے شہریوں کو مسجد الحرام میں داخل نہیں ہونے دیا گیا‘

* سعودی عرب سے معاملات طے، ایرانی حج کر سکیں گے

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب تین جنوری کو اس کے سعودی عرب کے تہران اور مشہد کے سفارت خانے اور قونصلیٹ مظاہرین نے دھاوا بول دیا تھا۔ یہ مظاپہرے سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم کی سزائے موت کے خلاف کیے گئے۔

تاہم حالیہ مہینوں میں ایرانی حاجیوں کی حج کے لیے سعودی عرب آمد کے حوالے سے دونوں ممالک میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اسی اثنا میں ایرانی رہبر اعلیٰ کے ترجمان نے یقین دہانی کروائی کہ سعودی وزراتِ حج اس معاہدے کے تحت حاجیوں کا تحفظ اور تعزیم یقینی بنائے گی۔

ایران میں حج اور زائرین سے متعلق ادارے کے اہلکار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ایرانی حاجیوں کے لیے ویزوں کا اجرا شروع کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں