پاکستان ایران سرحد پر شدت پسندوں کے حملے میں دو ایرانی شہری ہلاک: ایران

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جہادی تنظیم جیش ال عدل نے ماضی میں کئی ایرانیوں کو نشانہ بنایا ہے

ایران کے انقلابی گارڈز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دو ایرانی شہریوں کو پاکستان ایران سرحد پر پاکستان میں قیام پزیر عسکریت پسند گروپ نے ہلاک کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جوابی کاروائی کے نتیجے میں سرحد عبور کر کے ایران کی حدود میں آنے والے حملہ آوروں میں سے ایک کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ باقی بھاگ کر واپس پاکستان چلے گئے۔

* ایران کی پاکستان میں شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

* پاکستان نے ایرانی ڈرون گرانے کی تصدیق کر دی

* سرحدی مسائل کے حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ

حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایرانی حکام اور پاکستان کی حدود میں سنی دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپیں وقتاً فوقتاً چلتی رہی ہیں۔

جہادی تنظیم جیش العدل نے ماضی میں کئی ایرانیوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایران کا الزام ہے کہ تنظیم کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ ہے کہ پاکستان نے ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں ایرانی ڈرون مار گرایا جب وہ پاکستانی سرحد کے تین سے چار کلومیٹر اندر پرواز کر رہا تھا۔

اس سے پہلے اپریل اور مئی کے مہینے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی تھی جب ایران نے تہران میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کر کے پاکستانی سرحد کے قریب شدت پسندوں کے حملے میں نو ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر احتجاج کیا تھا۔

اس کے بعد دونوں ملکوں نے سرحدی سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف سرحدی مسائل کے فوری حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں