چین کی انڈین سرحد کے قریب اصلی گولہ بارود سے مشقیں

چینی فوج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ کئی ہفتوں سے سرحد پر کشیدگی ہے

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کی فوج نے تبت میں انڈین سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ مشقیں 11 گھنٹے تک جاری رہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مشقوں کا مقصد کیا تھا اور نہ دن کا تعین ہو سکا ہے۔

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی فوج نے اروناچل پردیش کی سرحد سے متصل تبت میں یہ مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود کا استعمال کیا گیا۔

’انڈیا نے فوجیں واپس نہ بلائیں تو شرمندگی کا سامنا کرے گا‘

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کیوں ہے؟

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

ہندوستان ٹائمز نے اس بارے میں لکھا ہے کہ ان مشقوں میں تیزی سے نقل و حرکت اور دشمنوں کے جہازوں کو تباہ کرنے کی تیاریاں کی گئیں۔

اخبار کے مطابق یہ مشقیں انڈین حکومت اور فوج کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں کیونکہ چین اروناچل پردیش کے بڑے علاقے پر دعویٰ کرتا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چین کے سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے جمعے کو ان مشقوں کے بارے میں رپورٹ نشر کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ان مشقوں میں فوج کی اُس بریگیڈ نے حصہ لیا جو دریائے برہما پترا کے قریب کی ہیں جو وہاں سے بہہ کر انڈیا اور بنگلہ دیش تک جاتا ہے اور اس بریگیڈ کی ذمہ داری سرحدوں پر جنگی کارروائیاں کرنا ہے۔

اس کے علاوہ تبت کے دارالحکومت لاسا میں 10 جولائی کو تبت موبائل کمیونیکیشن نے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عارضی نیٹ ورک قائم کرنے کی مشق کی۔

خیال رہے کہ ان اطلاعات سے دو دن پہلے ہی چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے انڈیا کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ہمالیہ میں متنازع سرحدی علاقے سے اپنی فوجیں واپس نہ بلائیں تو اسے 'شرمندگی' کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سرکاری خبررساں ادارے شنہوا کا کہنا ہے کہ چین، انڈیا اور بھوٹان کے سرحدی علاقے ڈوکلام سے جب تک انڈیا اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا اس بارے میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یہ تنازع گذشتہ ماہ سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلام خطے سے شروع ہوا۔ چینی فوجی یہاں سڑک تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ اس علاقے میں فوجیں اس لیے بھیجی تھیں تاکہ وہ اس علاقے میں نئی سڑک کی تعمیر کو روک سکے جس علاقے پر بھوٹان اور چین دونوں اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔

یہ علاقہ انڈیا کے شمال مشرقی صوبے سکم اور پڑوسی ملک بھوٹان کی سرحد سے ملتا ہے اور اس علاقے پر چین اور بھوٹان کا تنازع جاری ہے جس میں انڈیا بھوٹان کی حمایت کر رہا ہے۔

انڈیا کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے چین کو انڈیا پر سٹریٹیجک برتری حاصل ہو جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں