یمن کے تنازع پر سعودی عرب سے براہ راست تصادم کا خطرہ نہیں: ایران

جواد ظریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ یمن کا تنازع تہران اور ریاض کے درمیان براہِ راست تصادم کا باعث نہیں بنے گا۔

جواد ظریف نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل برائے خارجہ امور کو بتایا کہ یمن میں جاری خانہ جنگی سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن تنازعے نے ایک اشتعال انگیز انسانی بحران پیدا کیا جس میں تحران اور ریاض مختلف پہلوؤں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایران کو اس کی سرحدوں کے اندر محدود کرنا ہو گا: سعودی فوج

’تہران میں حملوں کے ذمہ دار سعودی عرب اور امریکہ ہیں‘

یمن میں ہیلی کاپٹر گرنے سے سعودی عرب کے 12 فوجی ہلاک

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے مطابق یمن اور شام کے تنازعے پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود ایران اور سعودی عرب ایسے تنازعوں کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کو ڈیزائن نہیں کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ سنی اکثریتی ملک سعودی عرب اور شیعہ اکثریتی ایران کے درمیان حالیہ چند برسوں میں شدید نوعیت کے اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

سعودی عرب ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا آیا ہے۔

سعودی عرب نے اپنی اتحادیوں کے ساتھ مل کر تقریباً دو برس پہلے یمن میں باغیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا تاہم اب بھی یمن کے کئی علاقوں پر باغیوں کا قبضہ برقرار ہے۔

یمن کے معاملے پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی سے پہلے ہی شام کی صورتحال پر دونوں ممالک کے تعلقات تلخ ہو چکے تھے۔

چند ماہ پہلے سعودی عرب کی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نئی حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ ایران کا رویہ تبدیل ہو سکے کیونکہ عراق، شام اور یمن جیسے ممالک میں ایران کی مداخلت اور عزائم بڑا خطرہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں