رشید دوستم کی وطن واپسی کی کوششیں ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان کی حکومت نےنائب صدر رشید دوستم کےطیارے کو مزرا شریف میں اترنے کی اجازت نہیں دی ہے جس کے بعد ان کا طیارہ ترکمنستان میں اتر گیا ہے۔

نائب صدر رشید دوستم دو ماہ قبل ترک انجنیروں کے پرائیوٹ طیارے میں سوار ہو کر ملک سے چلے گئے تھے اور دو ماہ سے ترکی میں مقیم تھے۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات رشید دوستم ایک پرائیوٹ طیارے میں واپس آئے لیکن ان کے طیارے کو مزار شریف ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

افغانستان میں نیٹو کے ترجمان بل سیلون نے بی بی سی پشتو کے ساتھ بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان سے رابطہ کر کے ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ طیارے کے اترنے میں مدد دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption رشید دوستم دو ماہ قبل علاج کی غرض سے ترکی چلے گئے تھے

افغانستان میں نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور یہ ملک کا اندرونی سیاسی معاملہ ہے اور وہ اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔

نیٹو اہلکار نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو مشن کے فرائض میں افغان سکیورٹی فورسز کی تریبت، مدد اور مشاورت ہے اور وہ اسی پر توجہ دے رہے ہیں۔

انھوں نے تصدیق کی کہ انھیں درخواست کی گئی کہ وہ حکومت سے رابطہ کرکے نائب صدر کےطیارے کو مزار شریف میں اترنے کی اجازت حاصل کریں لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔