انڈین وزارت خارجہ نے مسلم مبلغ ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا

ذاکر نائیک تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

انڈین وزارت خارجہ نے مبلغ ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔ ذاکر نائیک پر مبینہ طور پر شدت پسندوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ممبئی کے پاسپورٹ آفس نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کی درخواست پر مبلغ ذاکر نائیک کا پاسپورٹ منسوخ کیا۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے ذاکر نائیک کو تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے بارہا نوٹس بھیجے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

٭ ممبئی: مذہبی مبلغ ذاکر نائیک کے دفاتر پر چھاپے

٭ ذاکر نائیک کی تنظیم پر پانچ سال کی پابندی عائد

اس کے علاوہ 21 اپریل کو ایڈیشنل سیشن جج نے نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کی خصوصی عدالت کی ہدایت پر ناقابل ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے تھے جبکہ 15 جون کو عدالت نے ذاکر نائیک کو پیش ہونے کے لیے باضابطہ حکم دیا تھا۔

بیان کے مطابق مبلغ ذاکر نائیک کی جانب سے ان حکم ناموں پر عمل نہ کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی کے ادارے نے وزارت خارجہ سے درخواست کی کہ ان کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا جائے۔

اکیاون سالہ ذاکر نائیک اس وقت انڈیا سے باہر ہیں اور ان پر دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔

ممبئی کے رہنے والے مبلغ ذاکر نائیک گذشتہ سال یکم جوالائی کو انڈیا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ وہ سکیورٹی اداروں کی نظر میں اس وقت آئے جب جولائی میں ہی ڈھاکہ کے ایک کیفے پر ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد نے دعوی کیا تھا کہ وہ ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر تھے۔

ذاکر نائیک نے رواں سال جنوری میں ہی اپنا پاسپورٹ رینیو کروایا تھا جس کی معیاد دس سال تھی۔

پی ٹی آئی کے مطابق ان پر اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے نفرت پھیلانے، شدت پسندوں کی مالی معاونت کرنے اور کروڑوں روپوں کی منی لانڈرنگ کرنے کے الزامات ہیں۔

تاہم انڈین میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران وہ ان تمام الزامات کو بارہا مسترد کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں