انڈیا میں شیروں کی ہلاکتوں پر ’خاموشی‘ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنوں نے انڈین حکام پر شیروں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو پوشیدہ رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں سال کم از کم 67 شیر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ انڈیا کے سابق میتمم تھیوڈور باسکران نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اس قسم کے معملات میں شفافیت نہیں ہے۔‘

٭ انڈیا کا مقبول ترین شیر ہلاک

٭ سیلفی لیتے سائبیرین شیر

دنیا میں شیروں کی 60 فیصد تعداد انڈیا میں پائی جاتی ہے لیکن ان کی نسل تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور ان کے جسم کے اعضا کی چین اور ایشیا کے دیگر حصوں میں مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے اعلی حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ جنوری اور جون کے درمیان 58 مردہ شیر ملے جبکہ نو دیگر مردہ شیروں کے جسم کے اعضا بھی حاصل کیے گئے ہیں۔

جنوبی ریاست کرناٹکہ میں 14 مردہ شیروں کی اطلاعت ملی جو کہ کسی بھی دوسری ریاست کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے علاوہ مدھیا پردیش میں 13 مردہ شیر پائے گئے۔

تھیوڈور باسکران کا کہنا ہے کہ ’جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کی تشویش کی وجہ ان ہلاکتوں پر خاموشی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق کرنے والوں اور محکمہ جنگلات کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

تاہم این ٹی سی اے حکام کے مطابق ان واقعات پر وضع شدہ طریقہ کار کے مطابق نمٹا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال شیروں کی ہلاکت کی وجوہات فیلڈ آفیسر کی حتمی رپورٹ آنے تک ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اگر شیروں کے مرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں بہت بڑھ جائے گی۔ گذشتہ 120 شیروں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی تھی، جو کہ 2006 کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی۔

انڈیا میں حالیہ برسوں کے دوران مسلسل اس طرح کے وقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق 2015 میں 80 شیر مرے جبکہ 2014 میں یہ تعداد 78 تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BELINDA WRIGHT/WPSI

کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں سو سال قبل ایک لاکھ شیر موجود تھے۔ جبکہ یہ تعداد کم ہو کر رواں برسوں میں 1500 رہ گئی ہے۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی ریڈ لسٹ کے مطابق جن جانوروں کو خطرہ ہے ان میں شیر بھی شامل ہیں۔

شیروں کی آبادی والے علاقوں پر انسانوں کے قبضے، ان کے جسمانی اعضا کی خاطر شکار اور ٹرافی ہنٹنگ کے باعث اب انڈیا میں صرف دہ فیصد حصوں میں شیر پائے جاتے ہیں۔

تاہم سنہ 2006 سے شیروں کے بچاؤ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے انتہائی بہتر نتائج سامنے آئے ہیں اور 2011 سے 2016 کے درمیان انڈین شیروں کی آبادی 1707 سے بڑھ کر 2226 تک پہنچ گئی۔

لیکن ان کے بچاؤ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

تھیوڈور باسکران کے مطابق ’ڈیجیٹل کیمروں کا انقلاب اور ساتھ میں شیروں کے علاقوں میں سیاحت کی وجہ سے تشویش بڑھتی جار ہی ہے۔‘

’کیمرے اٹھائے ہزاروں سیاح ان کے علاقوں کے قریب تر جانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث شیر انسانوں سے مانوس ہو جاتے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر شکاری انھیں مار دیتے ہیں۔‘

شیروں کی آبادی والے علاقوں میں سیاحت میں اضافہ بھی ان کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

سائنسدانوں کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ شیروں کو صحت کے بھی شدید خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ قریبی دیہاتوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

اب تک رواں سال مرنے والے شیروں میں سے زیادہ تر قدرتی موت مرے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وائلڈ لائف پروٹیکشن سوسائٹی آف انڈیا کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بیلائنڈا رائٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حادثات اور شکاریوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کو تو روکا جا سکتا ہے لیکن اس طرح کی اموات ہمیں زیادہ پریشان کر رہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جہاں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا وہیں ان کی قدرتی اموات بھی بڑھی ہیں۔ ان کے بچاؤ کی کوششوں سے فرق پڑا ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ انٹیلیجنس اور قانون کا نفاذ۔‘

انسانوں اور شیروں کے درمیان تنازع ان کے بچاؤ کے درمیان ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ شیروں کو زندہ رہنے کے لیے 25 ہزار ایکڑ پر جنگلات کی ضرورت ہوتی ہے۔

جنگلات کے ختم ہونے کی وجہ سے شیر قریبی دیہاتوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کی مویشیوں کو کھا جاتے ہیں۔

جس کے جواب میں شیروں کو یا تو زہر دے دیا جاتا ہے یا پھر انھیں قتل یا پکڑ لیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں