انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

چینی، انڈین فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین اور انڈیا کے درمیان سرحدی تنازع کافی پرانا ہے

اگر آپ انڈيا اور چین کے درمیان تقریباً ایک ماہ سے جاری سرحدی تنازع سے متعلق حالیہ سرخیوں پر نظر ڈالیں تو آپ انھیں دیکھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ دونوں ملک جنگ کے دہانے پر ہیں۔

اس سلسلے میں زبردست بیانات خطرات اور دھمکیوں سے پر ہیں۔ دہلی کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ چین خبردار کر رہا ہے کہ موجودہ صورتحال ’بڑھ کر ایک بڑا بکھیڑا بن سکتی ہے۔‘ ایک دوسرا اخبار بھی کچھ اسی طرح کی بات کہتا ہے: ’چین نے تنازع پر موقف سخت کر لیا ہے۔‘

بیجنگ میں بھی سرکاری میڈیا کا حال کچھ کم نہیں ہے جو سنہ 1962 میں سرحد تنازع سے متعلق ہونے والی جنگ میں انڈیا کی شکست کو یاد دلا رہا ہے۔ وہاں کا میڈیا اس وقت کی تصاویر اور رپورٹ شائع کر رہا ہے۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے تو اس سلسلےمیں کچھ زیادہ ہی جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ پہلے اس نے سڑک کی تعمیر میں رخنہ ڈالنے کی وجہ سے انڈيا پر بھوٹان کی خودمختاری کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا پھر اس نے لکھا کہ اگر انڈیا نے دیگر پوسٹوں پر بھی تنازع شروع کیا تو اسے چین کے ساتھ جنگ کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین اور انڈيا کے درمیان موجودہ تنازع جون میں اس وقت شروع ہوا جب انڈیا نے چین کو ڈوکلام کے علاقے میں ایک سرحدی سڑک کی تعمیر سے روکا۔ چین میں ڈوکلام کو ڈونگلانگ کہا جاتا ہے۔

ڈوکلام کا علاقہ انڈيا کی شمال مشرقی ریاست سکّم، چین اور بھوٹان کی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ چین اور بھوٹان کے درمیان اس علاقے کی ملکیت کے حوالے سے اختلافات ہیں اور انڈیا اس معاملے میں بھوٹان کے موقف کا حامی ہے۔

انڈیا کو اس بات پر تشویش ہے کہ اگر مذکورہ شاہراہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو دفاعی حکمت عملی کے اعتبار سے بہت ہی اہم راہداری ’چکن نی‘' تک چین کی رسائی بہت آسان ہوجائے گی۔ چکن نیک تقریباً 20 کلومیٹر طویل ایک چوڑی راہداری ہے جو انڈيا کی سات شمالی مشرقی ریاستوں سے جڑتی ہے۔ جب سے اس علاقے میں تنازع شروع ہوا ہے اس وقت سے دونوں ملکوں نے اپنی اپنی فوجیں تعینات کر دی ہیں اور ایک دوسرے سے پیچھے ہٹنے کو کہہ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بار چین نے انڈيا کے خلاف اپنے موقف میں شدت پیدا کی ہے اور متںاوع علاقے سے نکل جانے کو کہا ہے

دونوں ملکوں کی فوجیں ماضی میں بھی کئی بار سرحدی تنازع کے سبب مختلف سرحدی علاقوں میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوئی ہیں اور سرحدوں پر دونوں جانب سے دوراندازی بھی ایک عام بات ہے۔ سنہ 1967 اور87 - 1986 میں دونوں فوجیں آمنے سامنے آئی تھیں لیکن کوئی بڑی لڑائی نہیں ہوئی۔

دفاعی تجزیہ نگار اجے شکلا کے مطابق انڈیا کا خیال ہے کہ اس نے بھوٹان کے ساتھ جو وعدے کر رکھے ہیں چین انہی وعدوں اور عزم کا امتحان لے رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’چین ہمیشہ سے ہی اس قربت سے نالاں رہا ہے، جو چین کی جانب سے اسے توڑنے کے لیے ہونے والے زبردست دباؤ کو برداشت کر گئی ہے۔‘

اس بار چین نے انڈيا کے خلاف اپنے موقف میں شدت پیدا کی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ ’حالات کو مزید خراب ہونے‘ سے بچانے کے لیے انڈین فورسز کو وہ علاقہ چھوڑ کر نکل جانا چاہیے۔

انڈین مبصروں کا خیال ہے کہ چین کے انتباہ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ چینیوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ مناسب بیانات اور انتباہ کے ساتھ ساتھ پہلے اس کے لیے گراؤنڈ ورک تیار کرتے ہیں۔ ایک چینی ماہر نے مجھے بتایا کہ اس بنیاد پر چین کی دھمکیوں کو صرف دھونس سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1962 کی جنگ میں چین نے انڈیا کو شکست دی تھی

سنہ 1962 کی جنگ سے پہلے بھی چین کی سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا نے انڈيا کو پہلے ہی خبردار کیا تھا اور بھارتی فورسز سے پیچھے ہٹنے کو کہا تھا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چین جنگ کے لیے گھیرا بندی کر رہا ہے۔ چونکہ دفاعی حکمت عملی کے اعتبار سے یہ علاقہ بہت اہم ہے اس لیے موجودہ صورت حال کے لیے الزام دونوں پر ہی عائد ہوتا ہے۔

2012 میں انڈیا اور چین نے کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ بھوٹان کے ساتھ سرحد کا آخری فیصلہ تینوں ممالک کے درمیان مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور اس وقت صورت حال جوں کی توں برقرار رہے گي۔

انڈيا کا خيال ہے کہ چین نے سڑک کی تعمیر سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انڈیا نے اپنی فوج بھی بھوٹان کے کہنے پر اس علاقے میں بھیجی ہے۔ بھوٹان اور انڈیا کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور بھوٹان نے اس کے لیے مدد مانگی تھی۔

چین کا کہنا ہے کہ انڈین کی فوج نے بھوٹان کی مدد کے لیے ڈوکلام پر حملہ کیا ہے، جو کہ عالمی قوانین کی مخالفت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بعض مبصرین کا بھی خیال ہے کہ شاید انڈیا نے سڑک کی تعمیر کو اس طرح سے چیلنج کرکے غلطی کی ہے۔

ایک تجزیہ کار نے مجھے بتایا: ’میں اس بات سے متفق ہوں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش ہے، لیکن انڈيا کو اس شدت سے قدم اٹھانا غلط تھا۔ ہم صرف اتنا کہہ سکتے تھے کہ چین نے ’سٹیٹس کو‘ کی مخالفت کی ہے۔ ہم نے سکیورٹی کے اشو کو بہت زيادہ اٹھا کر خود ہی گول کر لیا ہے اور اب چینی اسی کا استحصال کر رہے ہیں۔‘

چینی مبصر لانگ زنگ چن کا کہنا ہے کہ اس نکتہ نظر سے تو پاکستان کی درخواست پر تیسرے ملک کی فوج کشمیر میں داخل ہوسکتی ہے۔ اسی نکتہ نظر سے تو انڈین فوج ڈوکلام میں چین کو سڑک بنانے سے روکنے کے لیے داخل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’اگر بھوٹان نے انڈيا سے مدد کی درخواست بھی کی تھی تو بھی وہ اس کی مستند سرزمین پر رہ کر ایسا کرسکتی ہے، متنازع علاقے میں نہیں۔‘

اب جو تنازع ہے اس کا دونوں ملک اپنا وقار کھوئے بغیر باکوئی متفقہ حل چاہتے ہیں۔ لیکن جس طرح سے چین نے اپنا رویہ اتنا سخت کر دیا ہے اس صورت میں اس کا حل اتنا آ‎سان نہیں ہے اور اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے رشتے اچھے نہیں ہیں۔

اسی ماہ چین میں ہونے والے برک کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال بیجنگ جانے والے ہیں اور ممکن ہے کہ وہاں ان کے چینی ہم منصب یانگ جیچی سے ان کی ملاقات ہو اور اس میں اس کا کوئی حل نکل سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں