'انڈین 1962 کی شکست سے نکل نہیں سکے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' نے اپنے ایک ادارتی مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا میں ہندو قوم پرستی کی لہر نے چین کے سلسلے میں انڈیا کی پر امن پالیسی کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے ہندو قوم پرستی انڈیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔

مضمون میں لکھا ہے کہ اگر مذہبی قوم پرستی انتہا پسندی میں تبدیل ہو گئی تو مودی حکومت کچھ نہیں کر سکے گی بالکل اسی طرح جس طرح وہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کو روکنے میں ناکام ہوئی۔

کیا چین اور انڈيا جنگ کے دہانے پر ہیں؟

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کیوں ہے؟

'چین انڈیا کو شکست نہیں دے سکتا'

اخبار نے لکھا ہے کہ انڈیا چین کو اپنا حریف اور دشمن تصور کرتا ہے اور وہاں یہ تصور پھیلایا جا رہا ہے کہ چین چاروں طرف سے گھیر رہا ہے۔ 'بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں انڈیا کو شامل ہونے کی دعوت دینے کے باوجود انڈیا اس بات پر بضد ہے کہ یہ پروجیکٹ اسے محصور کرنے کی چین کی عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے۔'

اخبار نے لکھا ہے کہ ’بہت سے انڈین 1962 کی جنگ میں شکست سے نکل نہیں سکے ہیں۔ یہ شکست ان کے لیے ایک مسلسل درد بن گئی ہے جو انھیں چین کے خلاف متحد کرتی ہے۔ چین سے انتقام لینے کے جذبات ایک عرصے سے فروغ پا رہے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخاب کے بعد ملک میں قوم پرستی کی لہر کو مزید ہوا ملی ہے۔ وہ بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آئے۔ اس سے انڈیا میں قدامت پسندی کے تصورات کا اثر بڑھ گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اخـار کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے انتخاب کے بعد ملک میں قوم پرستی کے لہر کو اور ہوا ملی ہے، وہ بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کا فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آئے

اخبار کے مطابق 'اب حکومت پر زور پڑ رہا ہے کہ وہ اپنے خارجی تعلقات بالخصوص چین اور پاکستان جیسے ملکوں کے ضمن میں سخت گیر رویہ اختیار کرے۔ چین کی سرحد پر موجودہ تنازع دراصل ہندو قوم پرستوں کی ایما پر ہی شروع کیا گیا ہے۔‘

اخبار نے لکھا ہے کہ انڈیا نے اپنی چین پالیسی کو بڑھتی ہوئی قوم پرستی کے ہاتھوں اغوا ہونے سے روکنے کے لیے دانشمندی کا استعمال نہیں کیا۔ 'اس سے خود انڈیا کے مفاد خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ انڈیا اگر محتاط نہیں رہا تو ہندو قوم پرستی دونوں ملکوں کو جنگ میں دھکیل دے گی۔'

اس دوران انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے چین کے اس مطالبے کو مستر کر دیا ہے کہ انڈیا کے فوجی ڈوکلام کے متنازع خطے سے واپس جائیں۔

ایک بیان میں سشما سوراج نے کہا کہ 'بھارت کے فوجی وہاں سے پیچھے ہٹ جائیں گے بشرطیکہ چین کے فوجی بھی وہاں سے واپس جائیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ ڈوکلام کے اس خطے کے بارے میں ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کے مطابق کسی طرح کی تبدیلی بھارت چین اور بھوٹان تینوں ملکوں کے اتفاق رائے سے ہی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا چین سے بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں لیکن وہ ڈوکلام سے یکطرفہ طور پر اپنی فوج کو پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔

اس دوران بھوٹان کے متنازع خطے ڈوکلام میں انڈین فوجیوں کے داخل ہونے کے ایک مہینے بعد بھی چین اور انڈیا کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ دونوں ملکوں کے فوجی ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔

ڈوکلام خطے کو چین اپنی زمین کہتا ہے جبکہ بھوٹان کا کہنا ہے یہ زمین اس کی ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج بھوٹان کی درخواست پر اس کی زمین کا تحفظ کرنے کے لیے ڈوکلام میں داخل ہوئی ہے۔ چین انڈیا پر زور دے رہا ہے کو وہ اپنے فوجیوں کو اپنی سرحدوں میں واپس بلائے۔

دونوں ملکوں میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں