انڈیا کے نئے صدر اتنے غیر معروف کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کی شمالی ریاست بہار کے سابق گورنر رام ناتھ کووِند ملک کے 14 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے ونیت کھرے نے ایک ایسی شخصیت کی پروفائل کی ہے جن کے بارے میں متعدد انڈینز نے پہلے کبھی نہیں سنا ہو گا۔

ونیت کہتے ہیں کہ 'میں گذشتہ 27 برسوں سے دلتوں کے بارے میں لکھ رہا ہوں تاہم میں نے رام ناتھ کووِند کے بارے میں اس وقت سنا جب انھیں انڈیا کے اگلے صدر کے طور پر نامزد کیا گیا۔'

انڈیا کے دلتوں کے بارے میں لکھنے والے چندرا بھان پرساد اکیلے شخص نہیں ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ رام ناتھ کووِند کو نہیں جانتے جنھیں ملک کے آئینی عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے رام ناتھ کووِند کو ملک کے صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرنا اتنا حیران کن تھا کہ ایک مقامی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں صرف دو افراد ہی جانتے ہیں، وزیرِ اعظم نریندر مودی اور خدا۔'

رپورٹ کے مطابق رام ناتھ کووِند کی انڈیا کے صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ان کا نام گوگل پر پانچ لاکھ سے زیادہ بار تلاش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جب بی جے پی کے صدر امت شاہ نے اعلان کیا کہ کووِند پارٹی کے نامزد امیدوار ہوں گے تو انھوں نے رام ناتھ گووِند کو ایک ایسا 'دلت' قرار دیا جس نے 'اپنے سیاسی کریئر میں اس طرح کے اعلی ٰ عہدے کے لیے جدوجہد کی۔'

خیال رہے کہ انڈیا کے ہندو ذات نظام میں دلتوں کو سب سے زیادہ نچلی ذات سمجھا جاتا ہے اور ان کے خلاف اب بھی بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کی شکایات پائی جاتی ہیں۔

حقیقت میں بہت سے افراد بی جے پی پر الزام لگاتے ہیں کہ برہمن قیادت کی ذات کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہیں، جہاں دلتوں کا نمبر نچلے حصے پر آتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ کووِند کی نامزدگی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب کمیونٹی کی جانب سے پارٹی پر بے حسی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اگرچہ انڈیا میں صدر کا عہدہ زیادہ تر رسمی ہوتا ہے تاہم ملک میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر جب بٹے ہوئے مینڈیٹس آتے ہیں اس وقت اس کی اہمیت ہو سکتی ہے۔

بہت سے اہم دلتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ نئے صدر نے برادری کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں؟

پرساد نے کہا 'میں دلتوں پر ہونے والے سیمیناروں میں جاتا ہوں، میں اوپین پیس لکھتا ہوں، میں ٹی وی مباحثوں میں حصہ لیتا ہوں، میرا کام اس موضوع پر کام کرنا ہے لیکن مجھے رام ناتھ کووِند کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔'

'میں نے کبھی نہیں سنا کہ انھوں نے دلت کے مسائل پر کوئی موقف لیا ہو، یہ میری غیر علمی ہو سکتی ہے۔'

ایک اور دلت مصنف، جنھوں نے اپنا نام ظاہر کرنے کو ترجیح نہیں دی کہا 'رام ناتھ کووِند ایک تعلیم یافتہ شخص لگتے ہیں، لیکن میں نے کبھی دلتوں کے خلاف ظلم و ضبط کے بارے میں ان کا تبصرہ نہیں سنا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان کا مزید کہنا ہے 'صدر کے سجاوٹی منصب پر ایک دلت صدر کو بیٹھانا محض علامتی ہے لیکن کیا (انڈیا کے پہلے دلت صدر) کے آر نارائنن نے کمیونٹی کی کسی بھی طرح کی مدد کی؟

سینیئر صحافی سدوردرجن نے بی بی سی کو بتایا 'پارٹی ایسے شخص کے پاس چلی گئی ہے جو میڈیا سے گبھراتے ہیں۔'

انڈیا کے شمالی شہر کانپور کے رہائشی اور کووند کے طویل عرصے سے پڑوسی جگیشور کا دعویٰ ہے کہ انھیں نہیں یاد کہ 'کپڑا بیچنے والے کے بیٹے نے کبھی دلتوں کے لیے کوئی مہم چلائی ہو۔'

کانپور کے صحافی رمیش ورما ان سے اتفاق کرتے ہیں کہ انڈیا کے نئے صدر نے کم پروفائل رکھی ہے۔

رمیش ورما نے بی بی سی کو بتایا 'وہ میڈیا سے دور رہے کیونکہ وہ متنازع نہیں ہونا چاہتے تھے۔'

میں نے انھیں کبھی نہیں دیکھا کہ انھوں نے دلت پروگراموں میں حصہ لیا ہو، دراصل انھوں نے خود کو ایک دلت رہنما کے طور پر پیش نہیں کیا ہے۔

پرسکون آدمی

تو آپ کو رام ناتھ کووِند کے بارے میں کیا معلوم ہے؟

یو ٹیوب کی ویڈیوز ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ہندی اور انگریزی دونوں روانی سے بول سکتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کارکنوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایک نرم بول چال والے شخص ہیں جو'تنازعات سے دور رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Dhaniram Panther

کووِند بی جے پی کے ترجمان بھی رہے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے جماعت کے اہم عہدوں پر بھی کام کیا۔

بی جے پی کے سینیئر دلت رہنما سنجے پاسوان نے بی بی سی کو بتایا 'آر ایس ایس سے ان کی قربت ان کی مدد کرتی ہے۔'

انھوں نے کہا 'مودی اور کووِند ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔'

سنجے پاسوان نے کووِند کی بے نامی کے حوالے سے میڈیا پر 'ذات کے تعصب' کا الزام عائد کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا 'دلی ترجمان کے ذریعہ انڈین میڈیا کے لیے یہ آخری انتخاب ہے۔'

پاسوان نے یہ بھی کہا کہ کووِند نے کئی 'کامیابیاں' حاصل کیں جس کے بارے میں 'میڈیا بات کرنے سے انکار کرتا ہے۔

بی جے پی کے قریبی سمجھے جانے والے صحافی سوپن داس گپتا نے ٹویٹ کیا 'یہ سوال کہ کووِند کون ہیں؟ بھارت میں سیاسی صحافت کی حالت پر ایک تبصرہ ہے۔'

اسی بارے میں