کیا کشمیر کا مسئلہ اب دھندلا پڑ گیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر علیحدگی پسند حریت کانفرنس نے مظاہروں کا ایک کیلنڈر جاری کیا تھا جس میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ اور دوسری بین الاقوامی ایجنسیوں تک پہنچانے کی اپیل کی گئی تھی۔

حریت کی اس اپیل کا اثر کہیں دیکھنے کو نہیں ملا۔ تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے ضرور ہوئے۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں برہان وانی کے حق میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بھارتی ہائی کمیشن کی مخالفت کے بعد وہ بھی واپس لے لی گئی۔

٭ کشمیر:عسکری، نفسیاتی، سیاسی تبدیلیاں

٭ کشمیر کی 'آزادی کے ترانے' پر تنازع

٭ چین کشمیر میں ’تعمیری کردار‘ ادا کرنے پر تیار

بین الاقوامی مسئلہ

ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کا مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 1990 کی دہائی میں بین الاقوامی فورم پر اس مسئلے پر آواز اٹھائی جاتی تھی۔

پاکستان اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے میں اکثر کامیاب بھی ہوا تھا۔ عرب ممالک بھی کشمیریوں کے حق میں بیان دیا کرتے تھے۔ اس مسئلے کو تقریباً ویسی ہی توجہ دی جاتی تھی جیسی کہ فلسطینی مسئلے کو۔

لیکن اب حالات بدلے سے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اب بین الاقوامی برادری نے سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا مخالف مظاہرے

سری نگر میں سیاسی تجزیہ کار پی جے رسول کشمیر کے معاملے پر لکھتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو حالات ہیں، وہ پہلے سے بھی خراب ہیں۔ پاکستان تو اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور اس کی بین الاقوامی ساکھ پہلے سے بھی نیچے گر چکی ہے۔‘

برہان وانی کی پہلی برسی پر سڑکوں پر مظاہرین ضرور نکل آئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں لیکن ان کے انڈیا مخالف مظاہرے اس بار کچھ دھندلے سے نظر آئے۔

یہ بات بھی درست تھی کہ انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

حریت کے لیڈروں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر رکھا تھا اور وانی کے قصبے ترال کو چاروں طرف سے سیل کر دیا تھا، مگر گ۔شتہ سال کے مقابلے میں اس بار عام لوگوں میں جوش بہت کم تھا۔

برہان وانی کی برسی

گذشتہ سال سات جولائی کو برہان وانی کے پولیس تصادم میں مارے جانے کے بعد ان کے جنازے میں لوگوں کا ایک سیلاب امنڈ آیا تھا۔ اس کے بعد ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں 89 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

بہت سے لوگ پیلٹ گن سے زخمی ہونے کی وجہ سے معزور ہو گئے تھے لیکن ان کی موت کی پہلی برسی پر حریت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی اپیل کا اثر بہت کم نظر آیا۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ دھندلا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ رسول کے مطابق آزادی کا مقصد پورا نہیں ہوا۔

بی جے پی لیڈر حنا بٹ کہتی ہیں، ’پاکستان کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس کو ایک شدت پسند ملک مانا جا رہا ہے تو وہ کس طرح کشمیر کی حمایت اور کشمیر کی بات کر سکتا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی وہ انتہا پسندی کے دائرے میں آ چکا ہے۔ وہ کشمیر کا مسئلہ کس طرح اٹھا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کشمیریوں کی قسمت

حریت کے لیڈروں سے بات کرنے کی کوشش ناکام رہی۔ پولیس نے نظر بند رہنماؤں سے کسی کو ملنے نہیں دیا۔

لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ کشمیر کی تحریک زندہ ہے۔ اگر دنیا اسے بھول بھی جائے تو کشمیریوں میں ان کی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

ان لیڈروں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کشمیر میں طاقت کے بل پر حکومت کر رہا ہے۔

بھارت پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیموں پر نوجوانوں کو اکسانے کا الزام لگاتا ہے۔ پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جمہوریت میں عوام

جموں اور کشمیر پولیس کے ڈی جی پی ایس پی وید کہتے ہیں ’میں کہتا ہوں سب سے زیادہ کہیں آزادی ہے تو وہ ہندوستان میں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کون سی آزادی ہم مانگ رہے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اگر کسی کو اپنی بات کہنی ہو تو جمہوریت مکمل اجازت دیتی ہے۔ آپ اپنا نظریہ ضرور رکھیں لیکن ہتھیار اٹھائے بغیر امن سے۔

رسول کے مطابق انڈیا کا اثر دنیا میں کافی بڑھ چکا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی برادری بھی اب دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ اب بھی بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کو پہلے جیسی حمایت اب حاصل نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں