انڈیا اور چین میں کشیدگی پر بھوٹان خاموش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور بھوٹان کے درمیان کافی گہرے تعلقات ہیں

گذشتہ ایک ماہ سے ڈوكلام سرحدی تنازعے کے حوالے سے انڈیا اور چین کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے میڈیا میں اس سے متعلق کشیدگی والی خبریں ہر روز سامنے آ رہی ہیں۔

لیکن بھوٹان میں اس مسئلے پر خاموشی نظر آتی ہے۔

واضح رہے کہ ڈوكلام کا یہ متنازع مسئلہ براہ راست طور پر چین اور بھوٹان کے درمیان ہے۔ انڈیا کا موقف ہے کہ بھوٹان نے جب اس سے مدد مانگی تب وہ اس میں شامل ہوا لیکن بھوٹان کی جانب سے اس پر مکمل طور پر خاموشی نظر آتی ہے۔

انڈيا کے ساتھ بھوٹان کی کل 699 کلو میٹر طویل بین الاقوامی سرحد ہے۔ اس میں انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ساتھ بھوٹان کی 267 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ آسام کے جونگ كھار شہر کے ذریعہ ہی بھوٹان کے اندر داخل ہوا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈوكلام کا یہ متنازع مسئلہ براہ راست طور پر چین اور بھوٹان کے درمیان ہے اور انڈیا بھی اس کا فریق بن گيا ہے

بھوٹان کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک شہر میں برسوں سے کاروبار کرنے والے زیادہ تر انڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازع پر انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی سے متعلق خبروں پر یہاں کوئی بات چیت نہیں کرتا ہے اس لیے ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ انڈیا اور چین کے درمیان کچھ چل رہا ہے۔

ریاست راجستھان سے آکر یہاں آباد راکیش جالان نے بی بی سی سے کہا: 'انڈیا اور چین کے بارے میں ہمیں یہاں کچھ بھی احساس ہی نہیں ہوتا۔ کئی بار ٹی وی کی خبروں سے ضرور اس کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بھارت اور چین کے تنازع کو لے کر ہمارے یہاں کسی طرح کی بحث ہی نہیں ہیں۔'

کپڑے کی دکان چلانے والے راکیش کہتے ہیں کہ بھوٹان کی حکومت اگر انڈیا کے تاجروں کے لیے موجودہ قانون میں کچھ تبدیلی لائے تو آگے یہاں رہنے میں زیادہ سہولیات مل سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DILIP KUMAR SHARMA

بھوٹان میں بہت سے انڈین تاجر کاروبار کرتے ہیں۔ انھیں میں سے سریش اگروال کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'یہاں زندگی اچھی چل رہی ہے۔ کسی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ چین کے ساتھ تنازع کو لے کر ہمارے یہاں کسی طرح کا ہنگامہ نہیں ہے۔ نہ ہی ہمیں کوئی خوف ہیں۔ یہاں سے چھوڑ کر جانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ میری پیدائش یہیں ہوئی اور مرتے دم تک ہم یہی رہیں گے۔'

بھوٹان میں تجارت کرنے والے ان انڈین شہریوں کو یہاں آباد ہوئے تقریبا 50 سال سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے لیکن ان میں سے کسی بھی تاجر کے پاس گھر یا دکان کا مالکانہ حق نہیں ہے۔

بھوٹان کی حکومت نے ان لوگوں کو دکان اور مکان ایک سال کے لیے لیز پر دے رکھا ہے اور ایک سال بعد دوبارہ نئی لیز بنوانی پڑتی ہے۔ لیز کے مطابق کوئی بھی تاجر حکومت کی اجازت کے بغیر کسی طرح کا تعمیراتی کام نہیں کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس تناظر میں ایک تاجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'ہمارا خاندان 1963 میں یہاں آیا تھا۔ پہلے یہاں کافی آزادی تھی۔ لیکن حالیہ کچھ برسوں میں بھوٹان کی حکومت نے قوانین کافی سخت کر دیے ہیں۔ پہلے خاندان کے تمام لوگوں کو ایک سال کے لیے شناختی کارڈ دیا جاتا تھا۔ لیکن اب بھوٹان حکومت صرف کاروبار کرنے والے یعنی جس کے نام پر دکان ہوتی ہے اسی کو اور اس کی بیوی کو ہی آئی کارڈ جاری کرتی ہے۔'

بھوٹان کے اس علاقے میں میڈیا کی موجودگی کم ہی دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ بعض دکانوں پر بھوٹان کا قومی اخبار 'كوئینسیل' ضرور دکھا لیکن اس کے پہلے صفحے پر چین کے ساتھ سرحدی تنازع سے متعلق کوئی خبر نہیں تھی۔

بھوٹان اب ایک جمہوری ملک ہے لیکن یہاں آج بھی بادشاہت کا اثر زیادہ لگتا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے ملک کے بارے میڈیا سے کھل کر بات نہیں کرتے۔ یہاں ہر دکان کے اندر بادشاہ کی تصویر لگانا لازمی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں