’میں حیران ہوگئی کہ میں تو ایک خطاط ہوں‘

نادیہ مشتاق
Image caption نادیہ مشتاق نے خالی دنوں کو کاٹنے کے لیے بانس سے بنا قلم اُٹھایا اور صفحہ قرطاس پر خطاطی کرنے لگیں

نادیہ مشتاق نے گذشتہ برس معاشیات میں ڈگری مکمل کی تو اسی دوران کشمیر میں مسلح کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت سے عوامی احتجاج کی لہر پھیل گئی۔ کئی ماہ تک کرفیو اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران انٹرنیٹ اور فون رابطوں پر پابندی عائد رہی۔

گھروں میں محصور لوگ حالات کی بحالی کے منتظر تھے، لیکن نادیہ کے لیے یہ انتظار اپنے اندر کے فنکار کو بیدار کرنے کا نادر موقع ثابت ہوا۔ انھوں نے بانس سے بنا قلم اُٹھایا اور صفحہ قرطاس پر خطاطی کرنے لگیں۔ صرف ایک سال بعد ان کے فنی نمونے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے احاطے میں منعقدہ نمائش میں دیکھے گئے۔

نادیہ خود بھی حیران ہیں کہ یہ کرشمہ کیسے ہوا۔ 'ہڑتال اور کرفیو کے دوران کمرے میں اکیلے ہوتی تھی، اور پھر ٹی وی، انٹرنیٹ اور فون بھی بند کیا گیا۔ میں نے سوچا کیوں نہ خوش نویسی پر ہاتھ آزماؤں، میں حیران ہوگئی کہ میں تو ایک خطاط ہوں۔'

Image caption عظمیٰ جیلانی پیشے سے آرکیٹیکٹ ہیں، لیکن انھیں شوق تھا کہ قلم اُٹھا کر عربی، فارسی اور اُردو کی عبارتوں سے عکس بنائیں

کئی ماہ بعد جب حالات قدرے بحال ہوئے تو نادیہ نے اپنے فنی نمونوں کو فیس بک پر پوسٹ کردیا۔ ماہرین نے انھیں دیکھا تو ان سے رابطہ کر کے ان کے فن کو نمایاں کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔

گذشتہ ایک سال کے دوران کشمیر میں 46 مرتبہ انٹرنیٹ معطل کیا گیا۔ گذشتہ برس انٹرنیٹ کی معطلی نے نادیہ کے اندر چھپے فنکار کو نمایاں کردیا تھا لیکن اب یہ پابندیاں ان کے فن کی ترقی اور ترویج میں حائل ہیں۔ 'بہترین کاغذ، قلمیں، رنگ اور سیاہی سب آن لائن ملتا ہے۔ جب انٹرنیٹ نہیں ہوتا تو میں مایوس ہوجاتی ہوں۔'

قدیم فنی روایات اور تہذیبی ورثے کے احیاء کے لیے سرگرم سلیم بیگ نادیہ جیسے دوسرے نوجوانوں کو اپنی تخلیقات کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک سٹیج فراہم کرنا چاہتے تھے۔ حکومت کے اشتراک سے انھوں نے پرانے سرینگر میں واقع تاریخِی جامع مسجد میں خوش نویسی کے فن سے متعلق ایک ہفتے تک ورک شاپ اور نمائش کا اہتمام کیا۔

Image caption قدیم فنی روایات اور تہذیبی ورثے کے احیاء کی خاطر سرگرم سلیم بیگ نادیہ جیسے دوسرے نوجوانوں کو اپنی تخلیقات کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک سٹیج فراہم کرنا چاہتے ہیں

سلیم بیگ کہتے ہیں: 'جامع مسجد کو انڈین میڈیا میں تشدد اور مظاہروں کی علامت کے طور پیش کیا جاتا ہے اور ہمارے لیے یہ تاریخی مسجد قدغنوں اور پابندیوں کی مثال ہے۔ لیکن اسی مسجد کے احاطے میں یہ نوجوان اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اس مسجد کی تہذیبی مرکزیت کو ثابت کررہے ہیں۔'

نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ شستہ انگریزی بولنے اور سمارٹ فون استعمال کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کو بھی خطاطی اور خوش نویسی کے فن نے بہت مرغوب کیا اور پورے جنون کے ساتھ یہ فن سیکھنے کے لیے ورکشاپ میں پہنچے۔

Image caption نوجوان طالب علم صالح شاداب کہتے ہیں کہ حکومت نے آج تک ایک آرٹ گیلری تک تعمیر نہیں کی

23 سالہ عظمیٰ جیلانی کہتی ہیں: 'میں تو پیشے سے آرکیٹیکٹ ہوں، لیکن مجھے شوق تھا کہ میں قلم اُٹھا کر عربی، فارسی اور اُردو کی عبارتوں سے عکس بناؤں۔'

نمائش میں کینوس پر مُصوری اور خطاطی کے امتزاج سے بننے والی دلکش پینٹنگز بھی تھیں جو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے تخلیق کی ہیں۔

نوجوان طالب علم صالح شاداب کہتے ہیں 'کشمیر میں نوجوانوں کی اکثریت کسی نہ کسی فن کے ساتھ وابستہ ہے، لیکن ستم یہ ہے کہ کلچر کلچر کی باتیں کرنے والی حکومت نے آج تک ایک آرٹ گیلری تک تعمیر نہیں کی۔ ہم فن پارے تخلیق تو کرتے ہیں، لیکن انھیں دکھانے کے لیے جگہ نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں