'ایوب پنڈت کو ہندو سمجھ کر نہیں مارا گیا'

محمد ایوب تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کو ہجوم نے قتل کر دیا تھا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی ہجوم کے ہاتھوں پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کے قتل کو تقریباً ایک ماہ پورا ہو رہا ہے لیکن ان کے گھر میں اب بھی ماتم کا ماحول ہے۔

ان کے اہل خانہ سے غیر رسمی طور پر باتیں کرنے پر یہ احساس ہوا کہ ان کی سوچ میں ایک قسم کا توازن ہے۔

محمد ایوب پنڈت کے اہل خانہ کو معلوم ہے کہ پنڈت کے قتل پر سوشل میڈیا میں بہت ہنگامہ برپا رہا تھا۔

مسلمان کشمیری پنڈت کون ہیں؟

کشمیر: پولیس افسر کی ’وحشت ناک‘ ہلاکت

ان کے خاندان والوں نے کہا ہے کہ اسے فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے۔ ان کے مطابق قتل کرنے والے جانتے تھے کہ ایوب مسلمان تھے، انھیں ہندو سمجھ کر نہیں مارا گیا۔

سرینگر کی جامع مسجد کے باہر سکیورٹی پر تعینات پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کو 22 جون کی شب ہجوم نے تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔

Image caption محمد ایوب کے گھر میں ابھی بھی ماحول سوگوار ہے

وہ رات ماہ رمضان کی مقدس کہی جانے والی رات شب قدر تھی۔ ایوب نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ مسجد کے احاطے میں اپنے فون سے تصاویر لے رہے تھے، اسی وقت مشتعل ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔

ریاست کے پولیس سربراہ ایس پی وید نے گذشتہ ہفتے مجھے بتایا کہ ایوب کے قتل کی گتھی سلجھا لی گئی ہے اور اس سلسلے میں چند دنوں میں ایک پریس کانفرنس کرکے اس کی مکمل معلومات دی جائیں گی تاہم اب تک یہ پریس کانفرنس نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے ملاقات کے دوران یہ ضرور بتایا کہ ایوب کے قتل کے سلسلے میں سے 16-17 لوگوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان میں سے زیادہ تر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جہاں پولیس قتل کی گتھی سلجھانے کا ماحول بنا رہی ہے وہیں ایوب کے اہل خانہ اس انتظار میں ہیں کہ پولیس کی تفتیش کے نتیجے میں کیا سامنے آتا ہے۔

ایوب سری نگر میں ایک بڑے گھر میں مشترکہ خاندان میں رہتے تھے۔ ان کی بیوہ، دو بچے اور دو بڑے بھائی کے کنبے اسی بڑے گھر میں رہتے ہیں۔ ان کے دو بڑے بھائی، فاروق احمد پنڈت اور گلزار احمد پنڈت نے غم کے باوجود ہمیں اپنے گھر میں بٹھایا لیکن کیمرے کے سامنے بات کرنے سے صاف انکار کردیا۔

Image caption خواتین ایک دعائیہ تقریب میں شریک تھیں

انھوں نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: 'بھائی کے قاتل یہاں سے زیادہ دور نہیں رہتے اور تمام مقامی ہیں۔ ہم کچھ کہیں تو ہمیں بھی ٹارگٹ بنایا جا سکتا ہے۔‘

گھر کے اندر رشتہ داروں کا آنا جانا اب بھی لگا ہوا ہے۔ اندر ایک بڑے سے کمرے میں صرف خواتین اور بچے بیٹھے تھے۔ وہاں ایک مولوی صاحب ہاتھ اٹھا کر دعا کروا رہے تھے۔

بھائیوں نے کہا ایوب کی بیوہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ان کے بڑے اور کشمیری طرز کے گھر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایوب متمول خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دونوں بڑے بھائی خوشحال تاجر ہیں اور ان کا بیٹا بھی کاروبار کرتا ہے۔

Image caption یہ واقعہ شب قدر میں جامع مسجد سرینگر کے باہر پیش آیا

ان کے بڑے بھائی فاروق احمد پنڈت کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کے قتل کے وقت ہجوم میں شامل کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی انھوں نے سنہ 2015 میں آنے والے سیلاب میں مدد بھی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا 'وہ رات میں نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایوب پر حملہ کر دیا گیا'

بھائی کی موت کی خبر پولیس کے بجائے میڈیا سے ملی۔

ان کے خاندان کے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو طول اور تحقیقات میں دخل نہیں دینا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں