کابل میں ہونے والے خودکش حملے میں 24 افراد ہلاک

افغان سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خودکش حملہ پیر کو شہر کے مغرب میں شیعہ آبادی والے علاقے میں ہوا

افغانستان میں حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ پیر کو شہر کے مغرب میں شیعہ آبادی والے علاقے میں ہوا اور حملہ آور نے ایک ایسی بس کے قریب دھماکہ کیا جس میں وزارتِ کانکنی کے ملازمین سوار تھے۔

افغان وزارتِ داخلہ نے اسے 'انسانیت کے خلاف جرم' قرار دیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی اس خودکش حملے کی مذمت کی ہے۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ حملہ انٹلیجنس سروسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں کم سے کم 42 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ کو حصار میں لے لیا ہے۔ یہ دھماکہ بھیڑ بھاڑ والے وقت ہوا ہے۔

Image caption طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے

تصاویر میں جائے وقعہ سے جلی ہوئی گاڑیوں کو ہٹائے جاتے دیکھا گیا ہے۔

اس دھماکے میں تین گاڑیوں اور 15 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

جس ضلعے میں یہ دھماکہ ہوا ہے وہاں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی خاصی آبادی ہے۔

یہ حملہ حکومت کے ایک سینیئر اہل کار نائب چيف ایگزیکٹو محمد محقق کے مکان کے پاس ہوا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہی اس کا ہدف تھے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دھماکے میں 15 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے

سیاست داں محمد محقق کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ حملہ آور محقق کے مکان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن محافظ نے اسے روک دیا۔'

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیج اللہ مجاہد نے اپنی تنطیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی اداروں کے کارکنوں نے زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

افغان دارالحکومت کابل حالیہ کچھ مہینوں سے اس طرح کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ گذشتہ مئی میں یہاں ایک ٹرک کے دھماکے میں تقریباً 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس کی پہلی سہ ماہی میں افغانستان میں 1662 عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس میں تقریباً 20 فیصد لوگ کابل میں ہلاک ہوئے ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں