جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے؟

فون تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں اکثریت کے لیے انٹرنیٹ کا پہلا رابطہ ان کا فون ہے

انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں رواں سال کے اوائل میں ہجوم نے ملک میں ہونے والے دو بہیمانہ واقعات میں سات لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا۔

اس واقعے سے ملک میں دہشت پھیل گئی تھی لیکن اب جب واقعے سے گرد و غبار چھٹا ہے تو یہ پتہ چلا کہ ہلاک شدگان کو غلط طور پر بچوں کی سمگلنگ کرنے والا سمجھ لیا گیا تھا۔

اس کی وجہ واٹس ایپ کا ایک پیغام تھا جو وائرل ہوا تھا اور اس میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اجنبیوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ بچوں کو اٹھانے والے گینگ سے تعلق رکھتے ہیں۔

٭ وٹس ایپ پر پیغامات کا کھوج لگانا ممکن؟

٭ ٹوئٹر پر کھوٹے کو کھرا کر کے بیچنے والے

پولیس کا کہنا ہے جیسے جیسے یہ پیغام پھیلتا رہا لوگوں میں ایک قسم کا جنون پیدا ہو گیا تھا۔ گاؤں والے مسلح رہنے لگے اور وہ اجنبیوں پر حملہ کرنے لگے جس کا افسوناک نتیجہ نکلا۔

مغربی ممالک کے برخلاف انڈیا میں زیادہ تر 'فیک نیوز' یا جھوٹی خبریں وٹس ایپ اور موبائل فون میسجز کے ذریعے پھیلتی ہیں کیونکہ انڈیا میں اکثریت کے لیے انٹرنیٹ کا پہلا رابطہ ان کا فون ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRATIK SINHA

انڈیا کی ٹیلی کام ضابطہ کار کمیشن کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ایک ارب سے زیادہ فعال فون کنکشن ہیں اور کروڑوں لوگوں نے بہت کم عرصے میں آن لائن پر آنا سیکھ لیا ہے۔

آلٹ نیوز ڈاٹ ان کے بانی پرتیک سنہا نے بی بی سی کو بتایا: 'سمارٹ فون اور سستے ڈیٹا پیکیج کے سبب لوگوں کی پہنچ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ افواہیں تیزی سے اور دور دور تک پھیل جاتی ہیں۔

'اچانک دیہی ہندوستان کے لوگ بطور خاص معلومات کے سیلاب میں بہے جا رہے ہیں اور انھیں اصلی اور نقلی کی تمیز نہیں ہے۔'

پرتیک سنہا انڈیا کے معدودے چند لوگوں میں شامل ہیں جو فیک نیوز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مغربی ممالک کے برخلاف انڈیا میں زیادہ تر 'فیک نیوز' یا جھوٹی خبریں واٹس ایپ اور موبائل فون میسجز کے ذریعے پھیلتی ہیں

پہلے وہ سافٹ ویئر انجینیئر تھے لیکن اب وہ اپنا سارا وقت آلٹ نیوز کو دیتے ہیں اور اسے وہ اپنی بچت اور اشتہاروں سے آنے والے پیسے سے چلاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ایک چیلنج وٹس ایپ ہے جو انڈیا میں فیک نیوز کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یہ کسی روپ بدلنے والے وائرس کی طرح ہے۔

سنہا بتاتے ہیں کہ زیادہ تر ویڈیوز 'مسلم مخالف' سخت گیر ذہنیت والے افراد پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک ہندو لڑکی کو مسلم ہجوم کے ہاتھوں مارے جاتے دکھایا گیا ہے لیکن در حقیقت وہ لڑکی گوئٹے مالا کی ہے اور یہ دو سال پرانی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PANKAJ JAIN

ایک دوسری انڈین ڈیجیٹل ماہر درگا رگھوناتھ کے مطابق ہندوستان میں دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سوشل نیٹ ورک یا میسیجنگ ایپ پر سوال نہیں کرتے۔

افواہوں کی جانچ کرنے والی سائٹ ایس ایم سلیئر کے پنکج جین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں افواہوں کا پردہ فاش کرنے کی تحریک ان بے بنیاد افواہوں سے ملتی ہے جو انھیں وٹس ایپ کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHAMMAS OLIYATH

اسی طرح چیکس فار سپیم ڈاٹ کام کے شماس اولیاتھ زیادہ تر سیاسی قسم کی افواہ کی جانچ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس روزانہ تقریباً دو سو انکوائریاں آتی ہیں۔ ان کی شہرت کی بنیاد ایک میڈیا سٹوری ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انڈیا کے گینگسٹر داؤد ابراہیم کی املاک منجمد کر دی گئی ہیں اور ان کی جانچ کے بعد میڈیا کو یہ سٹوری واپس لینی پڑی تھی۔

اسی بارے میں