شہر والیاں اور ان کے پکوان

مٹھائی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بنگالی اور مارواڑی روایتا مٹھائیوں کے شوقین رہے ہیں

نام کچھ عجیب سا ہے۔ بھئی کسی بھی شہر میں رہنے والا شہر والا کہلاتا ہے، پھر یہ نام کیسے کچھ لوگوں پر چسپاں ہو گیا؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

18 ویں صدی میں نواب بنگال کی دعوت پر مارواڑیوں کی ایک بڑی جماعت راجستھان سے بنگالی پہنچی اور بھاگیرت دریا کے کنارے چھوٹے سے شہر میں بود و باش اختیار کر لی۔ عظیم گنج اور ضیا گنج کلکتہ کے مضافات میں بسے شہر مارواڑی تاجروں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں تھے۔

راجستھان کی سخت آب و ہوا، تازہ پھلوں اور سبزیوں سے بے بہرہ ان تاجروں کو بنگال میں تجارت کے بہترین ذرائع نظر آئے۔

٭ مالیرکوٹلہ کی کہانی

٭ مرہٹہ حکمرانوں کے شاہی کھانے

اس وقت بنگال دنیا کے مختلف ممالک کی آنکھوں کا تارا تھا۔ 18 ویں صدی کا یہ بنگال نہ صرف تجارتی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی طاقتور تھا۔ ایسے میں مارواڑی تاجروں نے خود کو شہر والا کہلایا اور اسے اپنی شناخت بنا لی اور یہ تقریبا تین سو سال سے بنگال کی سرزمین آباد ہیں اور ابتدا میں ان کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔

ان تاجروں کے سربراہ اوسوال جین تھے اور انھی کی سرکردگی میں یہ مارواڑی گروہ پھولا اور پھلا۔ شہر والیوں نے بنگال اور راجستھان کی تہذیب کے تال میل سے ایک نئی تہذیب کی بنا ڈالی۔ گو بنگالی رہن سہن کو اختیار کیا لیکن ان میں راجستھان کی شاہی خو بو بھی باقی تھی۔ پیسے کی فراوانی نے عیش و عشرت کے سامان مہیا کیے لیکن اپنی قدیمی روایت کے زیر اثر وہ سبزی خور رہے اور شراب کی لعنت سے دور دور۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارواڑی ایک زمانے میں کپڑے کی تجارت کے لیے پورے ملک میں مشہور تھے

شہر والیوں کا پکوان سبزیوں پر مشتمل تھا۔ راجستھان میں تازہ سبزیوں کا فقدان اور بنگال میں تازہ سبزیوں کی فراوانی۔ بنگال کی بود و باش نہ صرف ان کے رہن سہن پر اثر انداز ہوئی بلکہ ان کے پکوان، بنگالی، راجستھانی، افغان، مغل اور انگریز کے ذائقوں سے اثر انداز ہوئے۔ ان سے راجستھانی مزہ چھوٹا نہیں اور مغلوں کے زیر اثر خشک میوے، زعفران اور عرق گلاب ان کے کھانوں میں شامل ہو گئے۔

مرشد آباد کے مضافات میں کاشت کی جانے والی سبزیاں راجستھانی تراکیب سے بننے لگيں۔ مٹر کے نرم دانوں کو سلاد میں استعمال کرنے لگے اور رائتہ بنانے لگے، بڑے دانوں کا سالن اور کچوڑی۔ بنگال کے پنچ پھوڑن نے ان کے کھانوں میں جان ڈال دی اور ان کے باورچی خانے سے اٹھنے والی مہک پکوان کا نام ظاہر کر دیتی تھی۔

عظیم گنج کے آم کے باغات انواع و اقسام کے آموں کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انارس، بملی، چمپا، رانی، بھوانی الغرض ایک سو سے زیادہ اقسام کے آم ان باغات سے بازار میں پہنچتے۔ حکایت ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کے لیے یہاں سے آم جاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN
Image caption مارواڑی روایتا ‎سبزی خور واقع ہوئے ہیں

شہر والی لوگ شیریں غذا کے شوقین ہیں۔ کھانے کی ابتدا بھی شیرینی سے اور اختتام پر بھی شیرینی۔ ان کے لیے میٹھا کھانے کا کوئی وقت نہیں۔ ناشتے کی میز پر مال پوا، چھینا برا، پارس قدم کی موجودگی لازمی اور سردیوں میں کھاجا اور نمشی۔ میٹھا کھانے کی یہ دیوانگی راجستھان اور بنگال کی مشترکہ میراث تھی۔ پرتگالی تکنیک کے استعمال سے انھوں نے چھینا کی ایجاد کی جس نے بنگال میں ہلچل مچادی اور سینکڑوں قسم کی مٹھائیاں چھینا سے بننے لگیں اور آج بھی بنائی جاتی ہیں۔

شہر والی یا شیر والی آج بھی عظیم آباد اور ضیاگنج میں آباد ہیں۔ شیروالی زمیندار لچھی پت سنگ ضیا گنج کے زمین دار تھے ان کا ایک دلچسپ واقعہ آپ کی نذر ہے۔ سنہ 1870 میں انھوں کاٹ گولا محل اور چھتر باغ جیسا شاندار محل انگریز مہمانوں اور نوابوں کی پذیرائی کے لیے بنوایا تھا۔ رائے بہادر کو خوبصورت اور نفیس چیزوں کا شوق تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارواڑیوں کی طرح طرح کی نمکین اور مٹھائیوں میں بہت دلچسپی رہی ہے

ایک دن وہ خریداری کے لیے کلکتہ پہنے اور اپنے گروہ سے الگ ہو کر ایک اوسلر اینڈ کو دکان پر پہنچ گئے۔ یہاں سجاوٹ کا سامان خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ دکان کے انگریز منیجر نے سادہ سے لباس میں ملبوس رائے بہادر کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر کہا کہ اس دکان میں رکھی چیزیں اس کے لیے نہیں ہیں۔ اس پر رائے بہادر نے دکان میں رکھی تمام اشیا کی قیمت پوچھ لی۔ مینیجر ان کی سادہ لوحی پر ہنسا اور قیمت ڈیڑھ لاکھ بتائی۔ رائے بہادر نے اپنے خزانچی کو حکم دیا کہ قیمت ادا کریں اور سامان مرشد آباد بھیجنے کی تاکید کریں۔

مینیجر حواس باختہ ہوا پھر اس پر یہ کھلا کہ وہ سادہ شخص ضیا گنج کا زمیندار ہے۔ وہ ان کے پیروں پر گرپڑا اور سامان بھیجنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت مانگی کیونکہ اس کی جگہ دوسرا سامان لندن سے آنے میں وقت لگتا اور دکان بند ہوجانے کے نتیجے میں اس کی ملازمت جا سکتی تھی۔ رائے بہادر نے منیجر کی درخواست قبول کی اور سامان چھ ماہ بعد کوٹاگولا محل پہنچا۔ یہ تھی اس زمانے کی تہذیب اور بڑاپن۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں