انڈیا،چین تنازع: کب کیا ہوا؟

انڈین اور چینی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور چین کے درمیان بھوٹان کی سرحد پر تنازعے میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

انڈیا اور چین کے درمیان بھوٹان سرحد پر جاری تنازعہ تھمتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان الزام تراشیوں اور بیان بازیوں کا سلسلہ بھی کم نہیں ہو رہا ہے۔ پیر کو چین کی وزارت دفاع نے انڈیا کو ایک بار پھر متنبہ کیا۔

چین کی جانب سے کہا گیا کہ اس کی سرحدوں کی حفاظت کے معاملے میں پیپلز لبریشن آرمی کی قابلیت پر انڈیا کو کسی کنفیوژن میں نہیں رہنا چاہیے۔

اسی حوالے سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کب کیا ہوا اور کیا کہا گیا؟

24 جولائی، 2017: انڈیا کو متنبہ کرتے ہوئے چین کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا: 'پہاڑ کو ہلانا آسان ہے لیکن پیپلز لبریشن آرمی کو ہلانا مشکل۔‘

19 جولائی، 2017: بھوٹان سے ملحق سرحد پر انڈیا کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان چین نے کہا کہ اگر انڈیا سرحد پر 'فوجی بھیج کر سیاسی مقصد مکمل کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسا نہ کرے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

16 جولائی، 2017: چین کے سرکاری میڈیا نے انڈیا کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ہمالیہ میں متنازع سرحدی علاقے سے اپنے فوجیوں کو واپس نہیں بلایا تو اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

10 جولائی، 2017: ڈوكلام پر جاری تنازع کے درمیان چینی میڈیا نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر کوئی تیسرا ملک کشمیر میں مداخلت کر سکتا ہے۔

آٹھ جولائی، 2017: انڈیا اور چین کے درمیان جاری سرحدی تنازعے کے پیش نظر چین نے ہندوستان میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔

سات جولائی، 2017: ہیمبرگ میں انڈین اعظم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی۔

چھ جولائی، 2017: چین نے انڈیا پر پنچ شیل معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔ چین نے یہ بھی کہا کہ جرمنی کے ہیمبرگ میں جی 20 اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے لیے ماحول درست نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تین جولائی، 2017: انڈین سرکاری نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی جانب سے جون کے پہلے ہفتے میں انڈین بنکروں کو چینی بلڈوزروں سے گرانے کے مبینہ واقعے پر آنے والی رپورٹ کی ہندوستانی فوج نے تردید کی۔ فوج کے ترجمان نے پی ٹی آئی سے کہا کہ چھ جون کو ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔

30 جون، 2017: میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ انڈیا اور چین نے اس جگہ پر فوجیوں کی تعیناتی کی جہاں سکم، بھوٹان اور تبت کی سرحدیں ملتی ہیں۔ چین نے ناتھو لا درے سے گزرنے والی کیلاش مان سروور یاترا منسوخ کی۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا کہ 2017 کا ہندوستان 1962 کے انڈیا سے مختلف ہے۔

29 جون، 2017: چین نے انڈیا کو 1962 کی جنگ کی یاد دلائی۔ چین نے انڈیا کو جنگ کے شور شرابے سے دور رہنے کے لیے بھی کہا۔ دوسری جانب بھوٹان کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں چین سے ڈوكلام علاقے میں حالات کو پہلی طرح سے قائم رکھنے کی امید ظاہر کی۔

27 جون، 2017: چین نے ہندوستانی فوج پر سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام لگایا۔ چین کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام اس کے اپنے علاقے میں ہو رہا تھا اور انڈیا کے اس قدم سے سرحد پر امن کو شدید نقصان ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ چین کی فوج نے تبت میں انڈین سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے

20 جون، 2017: چار دن بعد بھوٹان نے نئی دہلی میں واقع چینی سفارت خانے سے اس بات پر احتجاج کیا تھا۔ خیال رہے کہ بھوٹان کا چین کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق نہیں ہے۔

16 جون، 2017: رائل بھوٹان آرمی نے ڈاكولا کے ڈوكلام علاقے میں سڑک بنانے والے چینی فوجیوں کو روکا۔ اس سڑک کا رخ زامپیری میں واقع بھوٹان آرمی کیمپ کی جانب تھا۔

نو جون، 2017: شنگھائی تعاون تنظیم میں انڈیا مکمل رکن کے طور پر شامل۔ آستانا میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات۔

آٹھ جون، 2017: انڈین فوجی سربراہ بپن چند راوت نے کہا کہ انڈیا چین اور پاکستان سے جنگ کے لیے تیار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption چینی صدر اپنی اہلیہ پینگ لیونگ کے ساتھ انڈیا کے دورے پر آئے تھے

مئی، 2017: بیجنگ میں چین کے 'ون بیلٹ ون روڈ' منصوبے پر منعقد سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انڈیا کا انکار۔ انڈیا نے بیان جاری کرتے ہوئے اپنے اعتراضات پیش کیے۔

سنہ 2012: انڈین فوج نے بھوٹان-چین سرحد کی حفاظت کے لیے ڈوكالا کے لالٹین میں حفظ ما تقدم کے طور پر دو بنکر بنائے۔

چھ جولائی 2006: سکم میں ناتھو لا درے کو انڈیا-چین کاروبار کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کے درمیان کوئی سرحد کھولی گئی تھی۔

سنہ 2003: چین نے سکم کو انڈیا کی ریاست کے طور پر اس شرط کے ساتھ تسلیم کیا کہ انڈیا بھی تبت کو سرکاری طور پر چین کے علاقے کا درجہ دے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں