سودے بازی کی کوشش کی تو مایوسی ہاتھ لگے گی: چین

ڈوبھال اور شی جن پنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے سنہ 2014 میں چینی صدر سے ملاقات کی تھی

چھ ممالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ’برِکس‘ کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس رواں ہفتے چین میں ہونے والا ہے۔

اس اجلاس میں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال انڈیا کی نمائندگی کریں گے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ 27 اور 28 جولائی کو ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے دوران ڈوبھال کی اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔

برِکس میں برازیل، روس، انڈیا، جنوبی افریقہ اور چین جیسے تیزی سے معاشی ترقی کرنے والے ممالک شامل ہیں۔

٭ انڈیا،چین تنازع: کب کیا ہوا؟

٭ پہاڑ ہلانا آسان ہے، چین کو ہلانا مشکل: چین

27 جون کو بھوٹان کی ڈوكلام سرحد پر چین نے انڈیا کی فوج پر سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام لگایا تھا۔

چین نے دعویٰ کیا تھا کہ سڑک کی تعمیر کا کام اس کے اپنے علاقے میں ہو رہا تھا۔ انڈیا نے ڈوكلام علاقے میں سڑک کی تعمیر کے بہانے چین کی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔

دریں اثنا، چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' نے ڈوبھال کے مجوزہ چینی دورے پر اداریہ لکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بھوٹان میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی جاری ہے

اخبار میں لکھا گیا ہے کہ 'انڈیا کو اپنی خام خیالی چھوڑ دینی چاہیے۔ اجیت ڈوبھال کا چینی دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعے کو انڈیا کی مرضی سے حل کرنے کے لیے صحیح موقع نہیں ہے۔ برِکس ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس معمول کی ایک کانفرنس ہے جس کا مقصد برکس سمٹ کی تیاری کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم چین - انڈیا سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لیے نہیں ہے۔'

کیا انڈیا نے تبت کے معاملے میں غلطی کی؟

کیا چین اور انڈيا جنگ کے دہانے پر ہیں؟

گلوبل ٹائمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سرحدی تنازع کے پس پشت 'سب سے بڑا دماغ' ڈوبھال کا ہی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ ڈوبھال کے دورے سے موجودہ تنازعے کا حل نکل آئے گا۔

'سودے بازی نہ کریں تو بہتر'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چینی اخبار نے اپنی فوج کی قوت اور دفاعی اخراجات کا ذکر کیا ہے

سرحدی تنازعے پر چین کے موقف کو دہراتے ہوئے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ چین اس بات پر قائم ہے کہ اس کے علاقے سے انڈین فوجیوں کو ہٹانے کے بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان کوئی بامعنی بات چیت ہو سکے گی۔

اخبار نے مزید لکھا کہ 'سرحدی تنازع پر ڈوبھال اگر سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں مایوسی ہاتھ لگے گی۔ اس معاملے پر چین کی حکومت کے موقف کو تمام چینی لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ چین کے لوگ اس بات پر قائم ہیں کہ ہم اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔'

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

’چینی سڑک کی تعمیر سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ‘

گلوبل ٹائمز نے اس مضمون میں دونوں ممالک کی 'اقتصادی حیثیت' کا بھی حوالہ دیا ہے۔

اخبار کے مطابق: 'چین کا جی ڈی پی بھارت سے پانچ گنا اور دفاعی بجٹ چار گنا ہے، لیکن ہماری طاقت کا صرف یہی ایک پیمانہ نہیں ہے۔ انصاف چین کے ساتھ ہے۔ انڈین فوجیوں کی سرحد سے غیر مشروط واپسی کا چین کا مطالبہ پوری طرح جائز ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں