گھر اِس پار ہے تو زمین اُس پار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خاردار باڑ جو ہزاروں ہندوستانی کسانوں کے دلوں سے ہو کر گزرتی ہے

انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر ایک ایسی خاردار باڑ بھی ہے جو ہزاروں ہندوستانی کسانوں کے دلوں سے ہو کر گزرتی ہے۔ وہ کسان جن کے گھر اِس پار ہیں، اور زمینیں اُس پار۔

ملک کی تقسیم تو 70 سال پہلے ہوگئی تھی لیکن پنجاب کے بہت سے کسانوں کی زندگی 1980 کے عشرے میں اس وقت دوبارہ بٹ گئی جب ریاست میں علیحدگی کی تحریک اپنے عروج پر تھی اور حکومت نے دراندازی اور سمگلنگ روکنے کے لیے تقریباً ساڑھے پانچ سو کلومیٹر لمبی سرحد پر خاردار تار لگانے کا فیصلہ کیا۔

یہ باڑ سرحد سے پہلے ہندوستانی سرزمین پر لگائی گئی جس کی وجہ سے اب کسانوں کو اپنی ہی زمینوں تک پہنچنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس کی سخت نگرانی میں تاروں کے پار جانا پڑتا ہے۔

واہگہ اٹاری چیک پوسٹ کے قریب واقع دھنوؤا گاؤں میں روزانہ یہ مشکل سفر طے کرنے والوں میں ہرمندر سنگھ بھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'تاروں کے پار جانا بہت مشکل کام ہے، بی ایس ایف والے پہلے سارا سامان اترواتے ہیں، چیکنگ ہوتی ہے، پھر دوبارہ سارا سامان ٹریکٹر ٹرالی پر لادا جاتا ہے، اور پھر آپ تاروں کے اس پار جاسکتے ہیں، لیکن بی ایس ایف والے وہاں بھی نگرانی کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ایسا لگتا ہے جیسے جیل چلے گئے ہوں۔'

باڑ کے دوسری طرف ایک کچا راستہ ہے جو دونوں ملکوں کےدرمیان سرحد کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے بعد پاکستانی کسانوں کے کھیت۔

ہرمندر کہتے ہیں کہ 'وہ لوگ آزادی کے ساتھ اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔۔۔ان کے ساتھ فوجی نہیں ہوتے لیکن ہمیں ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، وہ اپنا کام کرتے ہیں اور ہم اپنا۔'

اس چھوٹے سے گاؤں میں سب کی زبان پر ایک ہی شکایت ہے۔ 'کھیتی باڑی ہی ہماری زندگی ہے اوراگر ہم بے روک ٹوک اپنی زمینوں تک نہیں جا سکتے تو گزارا کیسے ہوگا؟'

گاؤں میں پیپل کے ایک بڑے درخت کے نیچے کچھ بزرگ جمع ہیں، وہ ہر شام اسی پیڑ کے نیچے ایک چبوترے پر گزارتے ہیں۔

گاؤں کے سرپنچ جگتار سنگھ کہتے ہیں کہ 'دس بجے گیٹ کھلتا ہے اور چار بجے بند ہوجاتا ہے۔۔۔شناختی کارڈ بنوانا پڑتا ہے لیکن پھر بھی اپنی مرضی سے جا سکتے ہیں اور نہ آ سکتے ہیں۔ حکومت بھی اس علاقے کو بھول گئی ہے، یہاں کوئی سہولت نہیں ہے، نہ کوئی ڈاکٹر ہے نہ سکول میں ٹیچر۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'جب تار نہیں تھے تو زندگی اچھی تھی، رات میں اگر کھیتوں پر جانا ہو تو ایک پرچی بنتی تھی، دن میں کوئی نہیں پوچھتا تھا، کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا لیکن تاروں سے ہماری زندگی مشکل میں آ گئی۔'

گرودیو سنگھ ان کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'تاروں کے پار میری پانچ ایکڑ زمین ہے، اگر اس طرف قیمت دس لاکھ روپے ایکڑ ہے تو ادھر دو لاکھ دینے والا بھی نہیں ملتا۔ وہاں کام کرنے کے لیے مزدور بھی آسانی سے تیار نہیں ہوتے اور پیسے بھی زیادہ مانگتے ہیں۔۔۔یہاں ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔'

اس گاؤں میں ایک ا یسے کسان کا قصہ مشہور ہے جو چیک پوسٹ کی پابندیوں سے ایک مرتبہ اتنا ناراض ہو کر لوٹا کہ 'پھر زندگی میں دوبارہ کبھی لوٹ کر اپنی زمینوں پر نہیں گیا۔'

امرتسر کی گرونانک دیو یونیورسٹی کے پروفیسر جگروپ سنگھ کی تحقیق کے مطابق گیارہ ہزار خاندانوں کی تقریباً 17 ہزار ایکڑ زمین ان تاروں کے پار واقع ہے۔

یہ کسان اتنے عاجز آ چکے ہی کہ بس چاہتے ہیں کہ حکومت ہی ان کی زمینیں خرید لے۔

ستر سال گزر جانے کے بعد اب تقسیم کے زخم بھر رہے ہیں لیکن دھنوؤا کے کسانوں کے نہیں، وہ جب بھی اس باڑ سے گزرتے ہیں تو ان کے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات