طالبان کا فوجی اڈے پر حملہ، 26 افغان فوجی ہلاک

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان کی فوج کے مطابق صوبے قندھار کے جنوبی شہر میں طالبان کے جنگجوؤں نے فوجی اڈے پر حملہ کر کے 26 فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے اور اضافی کمک کو طلب کر لیا گیا ہے۔

افغانستان کی وزارت کے مطابق اس حملے میں کم سے کم 13 فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے خاکریز ضلع میں واقع اس فوجی اڈے پر اب ان کا کنٹرول ہے۔

اس سے قبل افغان انٹیلیجنس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس حملے میں 40 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ 30 فوجیوں کی لاشوں کو قندھار منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دس فوجی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'شدت پسندوں نے قندھار کے ضلعہ کرزلی میں فوجی اڈے کو گذشتہ رات نشانہ بنایا۔'

کابل میں ہونے والے خودکش حملے میں 24 افراد ہلاک

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان فوجیوں نے 'بہادری سے اس حملے کی مزاحمت' کی اور اس کے نتیجے میں 80 سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔'

قندھار کے رہائشیوں نے اس حملے کے بارے میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا 'سینکڑوں طالبان' نے فوجی اڈے پر متعدد اطراف سے حملہ کیا۔

شدت پسندوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس حملے کا دعویٰ کیا۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت افواج کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والی امریکی تنظیم سیگار کے مطابق سنہ 2016 میں افغانستان کی سکیورٹی افواج کی ہلاکتوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا اور اس دوران 6,800 سپاہی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

شدت پسندوں نے افغانستان میں سنہ 2017 میں سکیورٹی افواج کے خلاف مزید کارروائیاں کیں۔

طالبان نے رواں برس اپریل میں مزارِ شریف میں حملہ کر کے 140 سے زیادہ فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

افغانستان حالیہ کچھ مہینوں سے اس طرح کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ گذشتہ مئی میں یہاں ایک ٹرک کے دھماکے میں تقریباً 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس کی پہلی سہ ماہی میں افغانستان میں 1662 عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس میں تقریباً 20 فیصد لوگ کابل میں ہلاک ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں