انڈين قومی سلامتی کے مشیر کی اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے اپنے چینی ہم منصب یانگ جئے شی سے ملاقات کی ہے

انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کے سبب ہونے والی کشیدگی کے درمیان انڈین قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے اپنے چینی ہم منصب یانگ جئے شی سے ملاقات کی ہے۔

چین میں برکس ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی میٹنگ پہلے سے ہی طے تھی جس میں شرکت کے لیے اجیت ڈوبھال چین کے دورے پر ہیں۔

انڈیا اور چین کے درمیان بھوٹان کی سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک کے مشیروں کی ملاقات کو کافی اہمیت دی جارہی ہے۔

جون میں بھوٹان کی سرحد پر ڈوكلام میں چین نے انڈین فوج پر سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعد سے چین مسلسل انڈیا پر ڈوكلام سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈيا اور چین کے درمیان سکم کی سرحد کے پاس تنازع کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں

بیجنگ میں انڈیا کے سینیئر صحافی سیبل داس گپتا کا کہنا ہے کہ چین کے قومی سلامتی کے مشیر یانگ جئے شی چینی کمیونسٹ پارٹی اور سیاست میں کافی اہم شخصیت ہیں۔ اس لیے اجیت ڈوبھال اور ان کے درمیان ملاقات کافی اہم ہے کیونکہ چین اس کے ذریعے اپنے موقف میں نرمی کا اشارہ دینا چاہتا ہے اور اب ڈوكلام کو لے کر صلح کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔

مسٹر گپتا کے مطابق یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ یہ اجلاس برکس کے بینر کے تلے ہورہا ہے اور اجلاس کے بعد یانگ جئے شی روس، برازیل اور جنوبی افریقہ کے سکیورٹی مشیروں سے بھی ملے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اجیت ڈوبھال سے ملاقات کے بعد اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ ڈوكلام کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی آ جائے۔

اطلاعات کے مطابق اجیت ڈوبھال اور یانگ جئے شی کی ملاقات کے بعد چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژن ہوا نے ایک تبصرہ نشر کیا جس میں دوستی، بھائی چارے کی باتیں کہیں گئی ہیں۔

اس میں اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ ’مغربی ممالک کے لوگ بھارت اور چین کو لڑوا رہے ہیں لیکن ویسے تو ہم بھائی بھائی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ LINTAO ZHANG/POOL/GETTY IMAGES
Image caption چينی صدر بیجنگ میں 2014 میں اجیت ڈوبھال سے ملاقات کرتے ہوئے

اس تبصرے میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں تھا کہ بھارت کو ڈوكلام سے پہلے اپنے فوجی واپس بلانے ہوں گے تبھی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ چین کی کسی سرکاری ایجنسی نے اس طرح کی بات کی ہے ورنہ اب تک یہ موقف تھا کہ بھارت پہلے اپنی فوجیں ہٹائے اس کے بعد ہی بات چیت کی جائے گی۔

ژن ہوا پر نشر تبصرے میں یہ بھی کہا گیا کہ انڈيا کو چین کے تئیں اپنے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اور چین انڈيا کی ترقی چاہتا ہے، اسے چین کے بجائے اپنے کرپشن اور دیگر مسائل پر توجہ دینی چاہيے۔

سیبل گپتا کے مطابق فی الحال اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے رخ میں نرمی آئی ہے اور وہ اپنی ضد سے پیچھے ہٹا ہے اور بھارت سے بھی وہ ایسی ہی توقع کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ مفاہمت کے لیے دونوں ممالک کو اپنی اپنی عزت بچانی ہے۔

ڈوكلام تنازع پر ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے افسران کئی سطحوں پر کوششیں کر رہے ہیں اور چین کے بدلے ہوئے رویے سے لگتا ہے کہ انڈیا نے بھی اپنا ہاتھ بڑھایا ہوگا ورنہ چین کھل کر اس طرح سامنے نہیں آتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں